اپریل 27, 2026

ایسے صارفین جو نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں انہیں کسی قسم کے لائسنس کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے: نیپرا حکام

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر صارفین کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے صارفین جو نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں ہیں (آف گرڈ)، انہیں کسی قسم کے لائسنس کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے۔ نیپرا حکام کے مطابق ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد و ضوابط کا اطلاق صرف ان صارفین پر ہوتا ہے جو نیٹ میٹرنگ یا نیٹ بلنگ کے ذریعے نیشنل گرڈ سے منسلک ہوتے ہیں۔

نیپرا حکام نے نئے ریگولیشنز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اب نیشنل گرڈ سے جڑے ہوئے تمام لوڈ کے حامل سولر صارفین کو اتھارٹی سے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ نئے قواعد کے تحت اب 25 کلو واٹ یا اس سے کم لوڈ والے صارفین کو بھی لائسنس کے لیے نیپرا سے رجوع کرنا پڑے گا، جبکہ اس سے قبل یہ صارفین صرف متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) سے منظوری حاصل کرتے تھے۔ حکام نے مزید واضح کیا کہ نئے لائسنس کے حصول کے لیے صارفین سے ایک ہزار روپے فی کلو واٹ کے حساب سے فیس وصول کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پہلے 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹم پر کوئی فیس لاگو نہیں تھی، تاہم اب نئے ریگولیشنز میں نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سسٹم کو ریگولیٹ کرنے اور نیشنل گرڈ پر موجود بوجھ کو بہتر طریقے سے مانیٹر کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ وہ صارفین جو مکمل طور پر آزادانہ (Off-Grid) نظام استعمال کر رہے ہیں، وہ ان قواعد سے مکمل مستثنیٰ رہیں گے۔