اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے میئر رون ہلدائی نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے جوابی حملوں نے شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد رہائشی یونٹس اب رہنے کے قابل نہیں رہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، براہِ راست میزائل حملوں اور اسرائیلی دفاعی نظام کے ملبے گرنے سے تل ابیب، رامات گان اور بنی براک میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام کو اب تک تقریباً 30 ہزار شہریوں کی جانب سے املاک کے نقصان کے دعوے موصول ہو چکے ہیں۔ ان دعوؤں کی تفصیلات کے مطابق 18 ہزار 408 عمارتوں، 6 ہزار 617 گاڑیوں اور 2 ہزار 549 دیگر قیمتی ساز و سامان کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خزانہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور لبنان کے خلاف محض 40 روزہ جنگ کی لاگت اب تک 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو اسرائیلی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔




