اپریل 19, 2026

ملک کی ترقی کے لیے ”آپریشن رد الکرپشن“ اور ”آپریشن رد النااہلیت“ ناگزیر ہیں، سینئر صحافی جاوید صدیقی کی اہم تجاویز

کراچی (اسٹاف رپورٹ) راولپنڈی اور اسلام آباد میں بیٹھے محب وطن، جانثار، سچے، مخلص، ایماندار و دیانتدار، بااختیار و خودمختار منصبوں پر فائز سے کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کا مشورہ اور عرضیات ھیں کہ پاکستان کی خوشحالی و ترقی کیلئے فی الفور ”آپریشن رد الکرپشن“ اور ”آپریشن رد النااہلیت“ کو لاؤنچ کیا جائے اور اس آپریشن کی نگرانی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، وزیراعظم میاں شہباز شریف و صدر مملکت آصف علی زرداری کیساتھ خود کریں۔ ”آپریشن رد الکرپشن“ اور ”آپریشن رد النااہلیت“ کو شروع کرنے سے قبل پارلیمینٹ اور سینیٹ سے منظوری لی جائے اور اسمبلی و سینیٹ میں ان آپریشنز کی مکمل تفصیلات کھول کر بیان کردی جائیں کہ ملک کی سلامتی و خوشحالی و ترقی کیلئے یہ دونوں آپریشن ناگزیر ھوچکے ہیں۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ ”آپریشن رد الکرپشن“ کے ذریعے سرکاری نیم سرکاری، کارپوریشن و نجی اداروں میں پھیلتی اور بڑھتی کرپشن کا ہر سمت، ہر زاویہ، ہر رخ سے اور انکے تمام معاونین کا مکمل دائمی خاتمہ کردیا جائے۔ ”آپریشن رد النااہلیت“ کے ذریعے اہلیت، قابلیت، اور ذہانیت کو ترجیحی بنیادوں اور 75 فیصد کے تناسب میں رکھا جائے اور صرف 25 فیصد کو کوٹے میں ضم کیا جائے۔ ابتداء سے پروفیشنل تعلیم تک بمع لیپ ٹاپ، کتب و اسٹیشنری مفت دینی جاہیں اور ابتدائی طبعی معائنہ سے لیکر بڑے سے بڑے آپریشن تک بمع ادویات کی سہولیات بھی عوام کو مفت فراہم کی جانی چاہیں۔ معاملاتی احتساب یعنی نیب اور مالیاتی احتساب یعنی اے جی پی کے اداروں کو آزاد بااختیار رکھا جائے۔ سپریم کورٹ سے شریعت کورٹ کو بالاتر رکھا جائے کیونکہ دنیاوی قوانین، قانونِ قدرت یعنی قرآن پاک سے نہ تو بالاتر ہیں اور نہ ہی مقدس اس لئے ہر شہر، ہر تعلقہ، ہرضلع اور ہر ڈویزن میں شریعت کو پھیلایا جائے ان کے دفاتر و کورٹ قائم کئے جائیں۔ جب تک ریاستِ پاکستان خود کو اپنے اندر سے پاک و شفاف نہیں کریگا تب تک پاکستان اور پاکستانی نہ مستحکم ہوسکیں گے اور نہ ہی خوشحال اور پر امن۔ کسی بھی صحافی و کالمکار کا کام صرف تنقید و اعتراض ہی نہیں ہوتا بلکہ ایک پروفیشنل جرنلسٹ کی اشد ذمہداری ھے کہ وہ اپنی ریاست اور ملک کی بہتری کیلئے مثبت انداز سے اپنا مثبت تعمیری کردار ادا کرے تاکہ حکومتی امور کی درستگی میں معاون و مددگار ثابت ہوسکیں۔ یاد رھے کہ ہمارے آئین میں اللہ کو حاکم رسول خدا ﷺ کو خاتم النبین کو تسلیم کرنا اور قرآنی احکامت کی تعمیل شرط اول اور شق میں موجود ہیں تو عملی طور پر قانون قرآن ریاستی اداروں و مالیاتی امور اور معاشرے میں عملاً ہوتا کیوں نظر نہیں آرھا اور اس بابت حکومت اور ریاست کی رٹ بھی نظر نہیں آتی کیا اس بابت حکومت اور ریاست جواب دے سکے گی ۔ حکومت اور ریاست کو قرآنی احکامات پر عمل پیرا کرنے کیلئے نرم اور سخت دونوں رویئے اختیار کرنے ہونگے یہی ہماری بقاء سلامتی خوشحالی ترقی اور امن کی ضمانت ہوسکتی ھے اب فیصلہ حکومت اور ریاست کو کرنا ھے۔۔۔!!