اکتوبر 29, 2026

کرسچن میرج ایکٹ میں 153 سال بعد تاریخی ترامیم: شادی کی عمر اور رجسٹریشن کے قوانین میں بڑی تبدیلی ، دولہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا بھی لازمی قرار

پاکستان میں مسیحی برادری کے ازدواجی قوانین کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے 153 سال پرانے کرسچن میرج ایکٹ میں بنیادی تبدیلیوں کا بل تیار کر لیا گیا ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور فیلبوس کرسٹوفر کی جانب سے جمع کروائے گئے اس بل میں تجویز دی گئی ہے کہ شادی کے لیے اب دولہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازمی ہوگا، جبکہ سابقہ قانون میں کسی ایک فریق کا مسیحی ہونا کافی سمجھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اہم انسانی حقوق کی تبدیلی کے طور پر شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی دونوں کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے پہلے لڑکے کے لیے 16 اور لڑکی کے لیے محض 13 سال کی عمر قانونی تھی۔ بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام مسیحی شادیوں کا ریکارڈ نادرا اور یونین کونسل میں درج کرنا لازمی ہوگا اور رجسٹرڈ گرجا گھروں کو مکمل مذہبی اختیار حاصل ہوگا۔ مزید برآں، شام 6 بجے کے بعد نکاح کی تقریب پر عائد صدیوں پرانی پابندی کو بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ تقاریب کے اوقات میں آسانی پیدا ہو سکے۔