اکتوبر 29, 2026

آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ کی چین، جاپان اور دیگر ممالک سے دوبارہ مدد کی اپیل

امریکی صدر Donald Trump نے ایک بار پھر چین، جاپان اور دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک کا زیادہ تر تیل اس راستے سے گزرتا ہے انہیں اس کی حفاظت میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکی افواج ایران کے دفاعی نظام کو تیزی سے کمزور کر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کا صرف ایک فیصد تیل گزرتا ہے جبکہ چین، جاپان اور دیگر ممالک کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے آتا ہے، اس لیے ان ممالک کو بھی اس کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہیے۔

امریکی صدر کے مطابق چین کا تقریباً 90 فیصد، جاپان کا 95 فیصد اور جنوبی کوریا کا 35 فیصد تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور دیگر ممالک کو چاہیے کہ وہ اس اہم سمندری راستے کی حفاظت کے لیے اپنے بحری بیڑے تعینات کریں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے جبکہ ایران کے 100 سے زائد بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحری قوت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی فوجی صلاحیتیں کمزور ہو گئی ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکی فوج ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے، میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے جارحانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی 30 کشتیوں کو تباہ کیا گیا ہے، تاہم یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایران نے وہاں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جزیرہ خارگ پر موجود تمام فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہاں مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی بحری اور فضائی دفاعی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں جبکہ ایران کی 44 بحری کشتیاں سمندر میں ڈبو دی گئی ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ کچھ ممالک آبنائے ہرمز کے معاملے میں تعاون کے لیے زیادہ پرجوش نظر نہیں آ رہے، حالانکہ امریکا گزشتہ چار دہائیوں سے ان کی سیکیورٹی میں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا دوسرے ممالک کو اس مشن میں شامل ہونے کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت اس کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو "آپریشن مڈ نائٹ ہیمر” کے ذریعے بڑا دھچکا پہنچایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نائن الیون سے پہلے Osama bin Laden کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا تھا اور اگر اس وقت ان کی بات مانی جاتی تو یہ واقعہ روکا جا سکتا تھا۔