ایران نے آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے معاملے پر بھارت سے اپنے تین ضبط شدہ ٹینکروں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اس وقت خلیجی پانیوں میں بھارت کے پرچم بردار 22 جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران نے بھارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت کے بدلے ادویات اور طبی سامان کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت نے رواں سال فروری میں ایران کے تین ٹینکروں کو ضبط کیا تھا۔ بھارتی حکام کا مؤقف تھا کہ ان ٹینکروں نے بھارتی سمندری حدود کے قریب اپنی شناخت یا نقل و حرکت کو چھپایا یا تبدیل کیا تھا اور وہ سمندر میں تیل کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث تھے۔
خبر ایجنسی کے مطابق پیر کے روز بھارت میں تعینات ایرانی سفیر نے نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات کی جس میں اس معاملے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے حال ہی میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے جانے والے دو بھارتی ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی جن میں سے ایک پیر کے روز بھارت واپس پہنچ گیا۔
بھارتی حکام کے مطابق خلیج میں اس وقت کم از کم 22 بھارتی پرچم بردار جہاز موجود ہیں جن پر 611 بھارتی شہری سوار ہیں۔ ایک بھارتی ذریعے کے مطابق ان جہازوں میں سے 6 ایل پی جی سے بھرے ہوئے ہیں اور بھارت چاہتا ہے کہ سب سے پہلے انہی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ملک میں گھریلو گیس کی ممکنہ قلت کو کم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق بھارت کی مجموعی ایل پی جی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد خلیجی ممالک سے آتا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز کی صورتحال بھارتی توانائی سپلائی کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔





