ایران کی جانب سے سعودی عرب اور پڑوسی خلیجی ممالک پر ہونے والے حالیہ حملوں نے پاکستان کو ایک پیچیدہ اور مشکل صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ عرب ٹی وی چینل ‘الجزیرہ’ کے ایک تجزیے کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان کے لیے اب غیر جانبدار رہنا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔ پاکستان اب تک ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے ایرانی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے موجودہ دفاعی معاہدوں کا احترام کرے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ اس وقت اسلام آباد کا سب سے مؤثر ہتھیار سفارت کاری ہے، لیکن اگر سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ ہوتا ہے، تو ریاض پاکستان سے دفاعی تعاون کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان اپنے دفاعی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو پاک سعودی دیرینہ تعلقات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا شدید خدشہ ہے۔




