وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ملک کے دفاعی اثاثوں اور علاقائی صورتحال پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ایٹمی ہتھیار صرف اور صرف پاکستان کی حفاظت کے لیے ہیں اور ملک کی سالمیت و خودمختاری ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مضبوط دفاعی معاہدہ موجود ہے اور ہم حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
پروگرام کے دوران تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر نثار جٹ نے بھی وفاقی وزیر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پوری قوم "لبیک” کہتی ہے اور اس معاملے پر سب متحد ہیں۔ اسی دوران دفاعی تجزیہ کار جاوید اقبال نے ملکی ذخائر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے پاس اس وقت 28 دن کا تیل اور 12 دن کی ایل پی جی موجود ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر موجودہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز بند ہو جاتی ہے تو متبادل راستوں کے ذریعے تیل کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی معاہدہ پہلے سے طے پا چکا ہے تاکہ ملکی ضروریات متاثر نہ ہوں۔




