روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے عالمی توانائی کی مارکیٹ میں ہلچل مچا دینے والا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے بعد روس اب یورپ کو گیس کی سپلائی روکنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ یورپی یونین روسی گیس اور ایل این جی پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اگر روسی گیس اور تیل پر ایسی پابندیاں لگائی گئیں تو روس کے لیے دیگر متبادل منڈیوں کا رخ کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یورپ کی جانب سے روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے جواب میں ماسکو نے اب تیزی سے چین اور دیگر بڑی منڈیوں کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ صدر پیوٹن کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ روس اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے اب مغرب کے بجائے مشرق پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جس سے عالمی توانائی کا نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔





