وارسا: اٹلی کے بعد اب مزید 5 یورپی ممالک نے پاکستانیوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کا اعلان پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں منعقدہ ایک اہم کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ غیر قانونی امیگریشن سے متعلق اس کانفرنس میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستانی وفد کی قیادت کی، جبکہ پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا، فن لینڈ اور لتھوانیا کے وزرائے داخلہ نے اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کی۔ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو بھرپور طریقے سے سراہا گیا اور مشترکہ اعلامیے کے مطابق پانچوں یورپی ممالک نے پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ملازمتیں فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی امیگریشن کے تدارک اور رابطہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے تمام چھ ممالک اپنی اپنی وزارتِ داخلہ میں فوکل پرسن مقرر کریں گے تاکہ انسانی اسمگلنگ جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اس وقت دنیا اور افغانستان میں دہشت گردوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ انسانی اسمگلنگ مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں پاکستان سے یورپ جانے والی غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد تک نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔





