اپریل 23, 2026

سینیٹ میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کے خلاف قرارداد منظور، نیتن یاہو کے بیان کی شدید مذمت

سینیٹ آف پاکستان میں اسرائیل اور بھارت کے مبینہ گٹھ جوڑ کے خلاف قرارداد منظور کر لی گئی، جس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مسلم ممالک سے متعلق بیان کی شدید مذمت کی گئی۔

ایوان میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ اسرائیلی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات نہ صرف مسلم امہ کی وحدت کے خلاف ہیں بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ قرارداد کے متن کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مسلم ممالک کے خلاف بھارت اور دیگر ممالک پر مشتمل علاقائی اتحاد بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، جسے ایوان نے ناقابل قبول قرار دیا۔

یہ قرارداد سینیٹر پلوشہ خان کی جانب سے پیش کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلامی ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ ایوان نے واضح کیا کہ اسرائیلی قیادت کی جانب سے علاقائی اتحاد کی بات مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔

قرارداد میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اسرائیل کا طرزِ عمل بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔ ایوان نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے پھیلاؤ کی بھی شدید مذمت کی۔

سینیٹ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلا کرے اور غزہ سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے۔ ایوان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔