وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جن افراد نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے مقدمات کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے کیسز کے لیے باقاعدہ فورم موجود ہے۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے قانونی نظام کو پہلے سے بہتر بنایا ہے اور اختلاف رائے کسی بھی مہذب معاشرے کا حسن ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار پہلے صدر اور چیف جسٹس کے پاس تھا تاہم اب اس طریقہ کار کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق جوڈیشل کمیشن ججز کی تعیناتی کرتا ہے تو ٹرانسفر بھی کر سکتا ہے تاکہ تمام صوبوں کو یکساں عدالتی سہولیات میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے اور 1973 سے آج تک کسی آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ قانون کے تحت مخصوص حالات میں سویلین کا ملٹری ٹرائل ممکن ہے اور جو افراد ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہوئے، ان کے کیسز فوجی عدالتوں میں ہی چلیں گے۔





