تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج کل سوشل میڈیا کے اس ہجوم میں کھڑا ہے جہاں ہر طرف کامیابیوں کے ڈھول پیٹے جا رہے ہیں ہر سکرین پر ترقی کے دعوے ہیں ہر تصویر میں مسکراتے چہرے ہیں ہر بیان میں منافع منافع کی رٹ ہے اور ہر سوال کے جواب میں ایک ہی جملہ ہے کہ پاکستان ریلوے خسارے سے نکل آئی ہے بندن میاں موبائل ہاتھ میں نہیں پکڑے بلکہ موبائل نے بندن میاں کو پکڑ رکھا ہے وہ سکرول کرتا ہے پڑھتا ہے سنتا ہے دیکھتا ہے اور ہر نئی پوسٹ کے ساتھ اس کی پیشانی پر سوالوں کی ایک نئی لکیر ابھرتی ہے کیونکہ یہ وہی ریلوے ہے جس کے پلیٹ فارم پر وہ اپنی جوانی چھوڑ آیا ہے یہ وہی ریلوے ہے جس کی پٹڑیوں پر اس کے خواب بکھرے پڑے ہیں یہ وہی ریلوے ہے جس کے انجن کی سیٹی میں اس نے اپنے بچوں کا مستقبل تلاش کیا تھا۔کہیں ریلوے منسٹر فرماتے ہیں کہ آمدنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کہیں سیکرٹری صاحب گراف دکھا رہے ہیں جو آسمان سے باتیں کر رہے ہیں کہیں ڈی ایس صاحبان اور چیئرمین صاحب اے سی کمروں میں بیٹھ کر میڈیا کو بتا رہے ہیں کہ اب ریلوے بدل چکی ہے اب خسارے کا لفظ لغت سے نکال دیا گیا ہے اب منافع ہی منافع ہے بندن میاں یہ سب دیکھ کر چونکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ لغت بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی وہ جانتا ہے کہ گراف کاغذ پر اوپر جا سکتے ہیں مگر ٹرینیں پٹڑی پر تبھی دوڑتی ہیں جب نیچے کا نظام درست ہو۔بندن میاں سوچتا ہے کہ اگر واقعی ریلوے منافع میں ہے تو پھر یہ احتجاجی ٹرین مارچ کیوں نکل رہی ہے کوئٹہ سے لاہور تک مزدور کیوں چیخ رہے ہیں ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ کیوں ہیں ان کے نعروں میں درد کیوں ہے ان کی آواز میں امید کے بجائے بے بسی کیوں ہے یہ وہی مزدور ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اب سب اچھا ہے مگر یہ سب اچھا ان کے گھروں تک کیوں نہیں پہنچا ان کی تنخواہیں وقت پر کیوں نہیں ملتیں ان کے ٹی اے ڈی اے کیوں سالوں سے رکے ہوئے ہیں ان کا اوور ٹائم کیوں فائلوں میں دفن ہے ان کا جی پی ایف کیوں مانگنے پر ملتا ہے اور وہ بھی سفارش کے ساتھ۔بندن میاں سیدھا سوال کرتا ہے اے سی کمروں میں بیٹھے معزز افسران سے کہ اگر منافع اتنا ہی ہے تو مزدور کو اس کی محنت کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا اگر آمدنی واقعی بڑھی ہے تو ریٹائرڈ ملازمین کی گریجویٹی /کمیوٹیشن کیوں تین تین سال لٹکی ہوئی ہے اگر ریلوے ترقی کر رہی ہے تو بیوائیں در در کیوں ٹھوکریں کھا رہی ہیں بینویلنٹ فنڈ کا حساب کون دے گا کس قانون کے تحت ایک بیوہ کو سفارش کے بغیر اس کا حق نہیں ملتا کس ضابطے کے تحت میڈیکل بنیاد پر ریٹائر ہونے والا ملازم زندگی اور موت کے درمیان فائل لے کر دفاتر کے چکر لگاتا ہے۔بندن میاں جانتا ہے کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں نیت ہے کیونکہ جس ادارے میں اے سی کمروں کی ٹھنڈک نے ضمیر کو جما دیا ہو وہاں مزدور کی آہ کوئی معنی نہیں رکھتی وہاں منافع صرف سٹیج پر بولا جاتا ہے فائلوں میں نہیں لکھا جاتا وہاں گراف صرف پریزنٹیشن کے لیے بنتے ہیں عملدرآمد کے لیے نہیں وہاں تالیاں بجانے والے زیادہ ہوتے ہیں سوال اٹھانے والے کم۔بندن میاں ان تالیاں بجانے والوں سے بھی پوچھتا ہے جو ہر بیان پر داد تحسین دیتے ہیں جو ہر ناکامی کو کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں تم کون سی ریلوے دیکھ رہے ہو وہ جو سکرین پر چمک رہی ہے یا وہ جو زمین پر سسک رہی ہے کیا تم نے کبھی رات کے وقت کسی کالونی میں بجلی بند ہونے پر کسی مزدور کے بچوں کو موم بتی کی روشنی میں پڑھتے دیکھا ہے کیا تم نے کبھی بارش کے بعد کسی کوارٹر کی گری ہوئی چھت کے نیچے دبی ہوئی زندگی کو محسوس کیا ہے کیا تم نے کبھی کسی ریٹائرڈ ملازم کی آنکھوں میں وہ سوال دیکھا ہے جو گریجویٹی کی فائل کے ساتھ ساتھ دفاتر میں گھومتا ہے۔بندن میاں زمین پر آتا ہے اور حقیقت کو دیکھتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ ٹرینیں آج بھی گھنٹوں لیٹ ہیں مسافر آج بھی پلیٹ فارم پر وقت کو کوس رہے ہیں کوچز آج بھی خستہ حال ہیں واش روم آج بھی ناقابل استعمال ہیں سیٹیں آج بھی ٹوٹی ہوئی ہیں اور کھڑکیوں سے آتی ہوا میں سکون کے بجائے خوف شامل ہے وہ دیکھتا ہے کہ آگ لگنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں کبھی بوگی میں کبھی انجن میں کبھی وائرنگ میں اور ہر واقعے کے بعد ایک انکوائری کمیٹی بن جاتی ہے جو رپورٹ کے بعد فائل بن جاتی ہے اور پھر الماری میں دفن ہو جاتی ہے۔بندن میاں کو یاد آتا ہے کہ چلتی ٹرینوں کی کپلنگ ٹوٹنے کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں اس لیے کہ ٹیکنیکل ، مکینیکل اور آپریٹنگ اسٹاف کی کمی ہے اس لیے کہ تجربہ کار ملازمین کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اس لیے کہ پرماننٹ بھرتیوں کے بجائے کنٹریکٹ اور عارضی حل پر گزارا کیا جا رہا ہے اس لیے کہ فیصلہ کرنے والے پٹڑی کے کنارے نہیں اے سی کمروں میں بیٹھے ہیں۔وہ پل جو اپنی معیاد پوری کر چکے ہیں وہ ٹریک جو زنگ آلود ہو چکا ہے وہ اسٹیشن جو کھنڈر بن چکے ہیں وہ اوور ہیڈ برج جو کسی بھی وقت سر پر گر سکتے ہیں یہ سب بندن میاں کو چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ ریلوے بیانوں سے نہیں بچتی مرمت سے بچتی ہے تقریروں سے نہیں بچتی دیکھ بھال سے بچتی ہے۔خانیوال کا حادثہ بندن میاں کے ذہن میں بار بار آتا ہے جہاں ایک پل نے جانیں لیں اور جواب میں پل ٹھیک کرنے کے بجائے بند کر دیا گیا مسافروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ پٹڑی عبور کریں بندن میاں پوچھتا ہے یہ حل ہے یا جرم یہ احتیاط ہے یا غفلت یہ اصلاح ہے یا اعتراف ناکامی۔پھر بندن میاں ریلوے کالونیوں کی طرف دیکھتا ہے جہاں مزدور رہتے ہیں جہاں بچے پلتے ہیں جہاں زندگی سانس لیتی ہے مگر ان کالونیوں میں نہ سیوریج درست ہے نہ پانی صاف ہے نہ سڑک سلامت ہے بارش آئے تو کالونیاں ڈوب جاتی ہیں اور مزدور کی عمر بھر کی جمع پونجی پانی میں بہہ جاتی ہے یہ وہی مزدور ہے جس کے نام پر تقریروں میں آنسو بہائے جاتے ہیں اورعملی طور پر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔بندن میاں کہتا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ریلوے میں پیسہ نہیں مسئلہ یہ ہے کہ ریلوے میں انصاف نہیں مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سوال کرنے والا مجرم سمجھا جاتا ہے اور تالیاں بجانے والا محب وطن کہلاتا ہے مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سچ بولنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے اور جھوٹ بولنا پالیسی کہلاتا ہے۔وہ آخر میں ریلوے منسٹر اور اعلیٰ افسران سے ایک ہی سوال دہراتا ہے کہ اگر سب کچھ اتنا ہی شاندار ہے تو یہ احتجاجی ٹرین مارچ کیوں ہے اگر ریلوے واقعی منافع میں ہے تو مزدور کیوں رو رہا ہے اگر ادارہ ترقی کر رہا ہے تو مسافر خوف میں کیوں سفر کر رہا ہے اور اگر یہ سب سوال غلط ہیں تو پھر انہیں دبانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔بندن میاں کہتا ہے کہ مایوسی کفر ہے مگر آنکھیں بند رکھنا بھی گناہ ہے اصلاح کا راستہ سچ سے ہو کر گزرتا ہے اور سچ وہی ہے جو زمین پر نظر آتا ہے نہ کہ وہ جو اے سی کمروں میں بیٹھ کر بیانوں میں بنایا جاتا ہے ریلوے کو بچانا ہے تو بیانوں سے باہر نکلنا ہو گا مزدور کو اس کا حق دینا ہو گا انفراسٹرکچر کو ترجیح بنانا ہو گا اور سب سے بڑھ کر سوال اٹھانے والوں کو دشمن نہیں آئینہ سمجھنا ہو گا کیونکہ جب تک آئینہ ٹوٹتا رہے گا چہرہ کبھی درست نظر نہیں آئے گا۔بندن میاں اب ذرا اور گہرائی میں اترتا ہے وہ کہتا ہے کہ منافع کی یہ جو رٹ لگائی جا رہی ہے اس کا حساب کون دے گا یہ منافع آیا کہاں سے کیا یہ مسافروں کی سہولت بہتر کر کے آیا کیا یہ ٹریک کی مرمت سے آیا کیا یہ پلوں کو محفوظ بنا کر آیا یا پھر یہ منافع صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے جہاں اخراجات کو دبا دیا جاتا ہے واجبات کو مؤخر کر دیا جاتا ہے مزدور کے حق کو التوا میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر ایک خوبصورت سلائیڈ بنا کر قوم کے سامنے رکھ دی جاتی ہے بندن میاں پوچھتا ہے کہ کیا منافع وہ ہوتا ہے جو مزدور کی تنخواہ روک کر حاصل کیا جائے کیا منافع وہ ہوتا ہے جو ریٹائرڈ ملازم کی گریجویٹی دبا کر دکھایا جائے کیا منافع وہ ہوتا ہے جو مرمت کے بجٹ کو کاغذوں میں سجا کر پیش کیا جائے۔وہ کہتا ہے کہ اصل منافع تو وہ ہوتا ہے جو مسافر کے اعتماد میں اضافہ کرے جو مزدور کے چہرے پر سکون لے آئے جو حادثات میں کمی لائے مگر یہاں تو الٹا ہو رہا ہے یہاں حادثات بڑھ رہے ہیں خوف بڑھ رہا ہے احتجاج بڑھ رہا ہے اور اس سب کے باوجود دعوے بھی بڑھ رہے ہیں بندن میاں طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے کہ شاید اسی کو جدید مینجمنٹ کہتے ہیں کہ مسئلہ زمین پر ہو اور حل سکرین پر۔بندن میاں اے سی کمروں کی دنیا کا نقشہ بھی کھینچتا ہے وہ کہتا ہے کہ وہاں نرم قالین ہیں ٹھنڈی ہوا ہے منرل واٹر ہے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن ہے وہاں ٹرین کی تاخیر ایک نمبر بن جاتی ہے وہاں حادثہ ایک سلائیڈ بن جاتا ہے وہاں مزدور کی چیخ ایک فٹ نوٹ بن جاتی ہے وہاں بیوہ کا آنسو ڈیٹا میں شامل ہی نہیں ہوتا وہاں فیصلے فائلوں سے زیادہ زبان سے ہوتے ہیں اور ذمہ داری ہمیشہ نیچے کی طرف پھینک دی جاتی ہے۔وہ سوال کرتا ہے کہ کیا کبھی کسی افسر نے رات کے وقت بغیر پروٹوکول کسی کالونی کا دورہ کیا ہے کیا کبھی کسی ڈی ایس نے بارش میں ڈوبی ہوئی گلیوں میں کھڑے ہو کر مزدور سے پوچھا ہے کہ حال کیسا ہے کیا کبھی کسی چیئرمین نے پلیٹ فارم پر بیٹھ کر مسافر کے ساتھ ٹرین کے لیٹ ہونے کا انتظار کیا ہے اگر نہیں تو پھر وہ کس بنیاد پر یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ سب کچھ بہتر ہو رہا ہے۔بندن میاں کہتا ہے کہ ریلوے کی تباہ حالی کوئی قدرتی آفت نہیں یہ انسانوں کی پیدا کردہ آفت ہے یہ غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے یہ چاپلوسی کی پیداوار ہے یہ سوال دبانے کی قیمت ہے یہاں اہل کو دیوار سے لگایا گیا اور خوشامدی کو آگے بڑھایا گیا یہاں تجربہ جرم بن گیا اور تعلق قابلیت بن گیا یہاں فائل نے انسان کو نگل لیا اور نظام نے احساس کو۔وہ کہتا ہے کہ احتجاجی ٹرین مارچ محض ایک احتجاج نہیں یہ ایک فرد جرم ہے یہ اس نظام کے خلاف چارج شیٹ ہے جو خود کو کامیاب کہتا ہے مگر اپنے ہی لوگوں کو ناکام بنا چکا ہے یہ مارچ پوچھ رہا ہے کہ ہماری محنت کہاں گئی ہمارے پسینے کی قیمت کہاں ہے ہماری عمر بھر کی کمائی کس تجوری میں بند ہے اور اس کی چابی کس کے پاس ہے۔بندن میاں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ریلوے کوئی عام ادارہ نہیں یہ ریاست کی شہ رگ ہے یہ دور دراز علاقوں کو جوڑتی ہے یہ غریب کی سواری ہے یہ مزدور کی امید ہے مگر جب اسی ریلوے میں مزدور غیر محفوظ ہو مسافر خوف زدہ ہو اور افسر مطمئن ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ سنگین ہے اور صرف بیانات سے حل نہیں ہو گا۔وہ کہتا ہے کہ آج بھی وقت ہے اگر نیت ہو اگر سچ سننے کا حوصلہ ہو اگر آئینہ دیکھنے کی جرات ہو مزدور کو اس کا حق دیا جائے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات فوری ادا کیے جائیں بینویلنٹ فنڈ کا شفاف آڈٹ ہو انفراسٹرکچر کو سیاسی اعلانات کے بجائے عملی ترجیح بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ مان لیا جائے کہ مسئلہ ہے کیونکہ جب تک مسئلہ تسلیم نہیں کیا جائے گا حل صرف پریس ریلیز میں ہی رہے گا بندن میاں آخر میں پھر وہی بات دہراتا ہے کہ یہ جو ریلوے بیانوں میں دوڑتی ہے حقیقت میں ہانپ رہی ہے اور اگر اس کی سانسیں بحال کرنی ہیں تو اسے سچ کی آکسیجن دینا ہو گی سوال کی ہوا دینا ہو گی اور تالیاں بجانے کے بجائے جواب دہی کا نظام قائم کرنا ہو گا کیونکہ ادارے بیانات سے نہیں سچ سے زندہ رہتے ہیں اور پھر بندن میاں آخری کاری وار کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ اے ریلوے منسٹر اور اے سی کمروں میں بیٹھے تمام معزز افسران ذرا کان کھول کر سن لو یہ جو تالیاں تمہارے گرد بج رہی ہیں یہ وفاداری کی آواز نہیں یہ مفاد کی گونج ہے یہ وہ شور ہے جو ہر زوال کے آغاز میں سنائی دیتا ہے یہ وہی تالیاں ہیں جو کبھی پی آئی اے کے زوال پر بجیں تھیں یہ وہی داد ہے جو کبھی اسٹیل مل کی بربادی پر دی گئی تھی اور یہ وہی خاموشی ہے جو ہر لاش کے بعد اختیار کی جاتی ہے بندن میاں پوچھتا ہے کہ تاریخ سے سبق کیوں نہیں لیا جاتا کیوں ہر ادارہ اسی انجام کی طرف دھکیلا جاتا ہے وہ کہتا ہے کہ اگر آج بھی یہ سمجھا جا رہا ہے کہ چند پریس کانفرنسیں چند سوشل میڈیا پوسٹیں اور چند تصویریں ریلوے کو بچا لیں گی تو یہ خود فریبی ہے ریلوے کسی ایک وزیر کی جاگیر نہیں کسی ایک سیکرٹری کی میراث نہیں یہ لاکھوں مسافروں کی امید اور ہزاروں مزدوروں کی زندگی ہے اس کے ساتھ کھلواڑ صرف بدانتظامی نہیں جرم ہے۔بندن میاں تلخی سے کہتا ہے کہ جو لوگ منافع کی رٹ لگاتے نہیں تھکتے ان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ اس منافع میں کتنے آنسو شامل ہیں کتنی بیواؤں کی سسکیاں ہیں کتنے ریٹائرڈ ملازمین کی آہیں ہیں کتنے بچوں کا مستقبل ہے جو فیسوں کی آخری تاریخ گزر جانے کے بعد بھی انتظار میں ہے اگر یہ منافع ان سب کی قیمت پر ہے تو پھر یہ منافع نہیں بلکہ ظلم ہے۔وہ کہتا ہے کہ اصل ترقی وہ ہوتی ہے جس میں مزدور سر اٹھا کر جی سکے جس میں مسافر خوف کے بغیر سفر کرے جس میں حادثہ خبر نہ بنے اور احتجاج ضرورت نہ رہے مگر یہاں الٹا ہو رہا ہے یہاں احتجاج معمول بنتا جا رہا ہے اور حادثات اعداد و شمار کا حصہ بن رہے ہیں اور ذمہ دار صرف تب بدلے جاتے ہیں جب میڈیا کا شور ناقابل برداشت ہو جائے۔بندن میاں آخری سوال پھینکتا ہے جو کسی ایک شخص کے لیے نہیں پورے نظام کے لیے ہے کہ اگر کل خدا نخواستہ کوئی بڑا سانحہ ہو جاتا ہے تو کیا پھر بھی یہی کہا جائے گا کہ ریلوے منافع میں ہے کیا پھر بھی گراف دکھائے جائیں گے کیا پھر بھی تالیاں بجیں گی یا پھر چند دن افسوس کے بعد سب کچھ معمول پر آ جائے گا اور فائلیں پھر سے الماریوں میں بند ہو جائیں گی۔وہ کہتا ہے کہ اگر واقعی ریلوے کو بچانا ہے تو آج فیصلہ کرنا ہو گا بیانات کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا حقیقت کے ساتھ تالیاں بجانی ہیں یا سوال اٹھانے ہیں اے سی کمروں کی خاموشی کو ترجیح دینی ہے یا پلیٹ فارم کی چیخ سننی ہے کیونکہ وقت کم ہے اور پٹڑی پر آنے والی ٹرین کسی پریس ریلیز کو نہیں دیکھتی وہ صرف حقیقت کو کچلتی ہے اور بندن میاں اس یقین کے ساتھ قلم رکھ دیتا ہے کہ سچ اگر آج کڑوا ہے تو کل شفا بن سکتا ہے مگر جھوٹ اگر آج میٹھا لگے تو کل زہر بن کر پورے ادارے کو مار دیتا ہے ریلوے کو بچانا ہے تو اس زہر سے جان چھڑانا ہو گی ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ ایک ادارہ تھا جو بیانوں میں دوڑتا رہا اور حقیقت میں ہانپتے ہانپتے دم توڑ گیا۔





