اکتوبر 29, 2026

جو ساتھ نظر آئے وہ سہارا نہیں اصل طاقت خودی میں ہے

تحریر: محمد انور بھٹی

جو ساتھ نظر آئے وہ سہارا نہیں اصل طاقت خودی میں ہے بندن میاں کی بیٹھک آج بھی قائم ہے نہ وہ ماضی کے کسی قصے میں دفن ہے نہ کسی یادداشت کے حاشیے میں بند بلکہ وہ اسی لمحے میں سانس لے رہی ہے جہاں انسان دھوکہ کھا کر بھی جینا سیکھتا ہے بندن میاں آج بھی اسی چارپائی پر بیٹھا ہے جہاں لفظ کم اور وزن زیادہ ہوتا ہے جہاں خاموشی شور سے زیادہ چیختی ہے اور جہاں مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے خنجروں کی چمک بند آنکھوں سے بھی دکھائی دیتی ہے بندن میاں کہتا نہیں بندن میاں سمجھاتا نہیں بندن میاں صرف دیکھتا ہے اور دیکھ کر وہ سچ بولتا ہے جس سے اکثر لوگ کتراتے ہیں وہ کہتا ہے کہ ہر وہ شخص جو ساتھ نظر آئے ضروری نہیں کہ ساتھ ہو کیونکہ میں نے اسی بیٹھک میں بیٹھ کر دوستی کے نام پر وار ہوتے دیکھے ہیں میں نے کندھوں پر ہاتھ اور دل میں زہر رکھے لوگوں کو پہچانا ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ سب کوئی پرانی کہانی نہیں یہ آج کا سچ ہے کل کا امکان ہے اور آنے والے وقت کا مستقل دستور ہے بندن میاں اس سماج کو دیکھ رہا ہے جہاں اعتماد لفظوں میں سستا اور عمل میں نایاب ہو چکا ہے جہاں وفا تقریروں میں بکتی ہے اور موقع پڑنے پر سب سے پہلے غائب ہو جاتی ہے بندن میاں آج بھی نوجوانوں کو یہی بتا رہا ہے کہ اپنی کمزوری ہر مسکراتے چہرے کے سامنے مت کھولو کیونکہ دنیا میں ہمدردی کم اور دلچسپی زیادہ ہے اور دلچسپی اکثر زخم گننے کے لیے ہوتی ہے مرہم رکھنے کے لیے نہیں بندن میاں اپنی بیٹھک میں آنے والوں کو یہ سبق بھی دے رہا ہے کہ دشمن اگر سامنے سے آئے تو سنبھلنے کا وقت مل جاتا ہے مگر جو اپنا بن کر وار کرے وہ وقت نہیں دیتا صرف نشان چھوڑتا ہے اور یہی نشان انسان کو یا تو توڑ دیتا ہے یا پھر بندن میاں بنا دیتا ہے بندن میاں خود اسی دوسرے راستے کی مثال ہے وہ ٹوٹ کر بکھرا نہیں بلکہ بکھر کر سمجھدار ہوا اور اسی سمجھداری نے اسے یہ کہنے کا حوصلہ دیا کہ زندگی میں سب سے مضبوط سہارا کوئی دوسرا نہیں بلکہ انسان خود ہے کیونکہ جب سارے سہارے آزمائش بن جائیں تب جو اپنے اندر کھڑا رہے وہی اصل طاقت ہے بندن میاں آج بھی یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگ تعریف کے دو لفظ سن کر اپنی ریڑھ کی ہڈی دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور تنقید کا ایک جملہ سن کر خود کو بے وقعت سمجھنے لگتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنے اندر کا ستون مضبوط کر لے اسے نہ تعریف اڑا سکتی ہے نہ تنقید گرا سکتی ہے بندن میاں کہتا ہے کہ مسکراہٹ دنیا کا سب سے آسان نقاب ہے اور خلوص سب سے مشکل سچ اسی لیے ہر چہرہ ہنستا ہے مگر ہر دل صاف نہیں ہوتا وہ یہ بھی کہتا ہے کہ بدگمانی اور ہوشیاری میں فرق ہے میں بدگمان نہیں مگر میں اندھا بھی نہیں میں ہر دروازہ کھلا رکھنے کے حق میں ہوں مگر ہر دروازے کے پیچھے کانٹے نہ رکھنا حماقت ہے بندن میاں آج بھی اپنی بیٹھک میں بیٹھ کر اس معاشرے کو آئینہ دکھا رہا ہے جو سچ سننا تو چاہتا ہے مگر سچ بولنے والے کو برداشت نہیں کرتا جو وفاداری کی باتیں تو کرتا ہے مگر فائدے کی لکیر بدلتے ہی رشتے بدل لیتا ہے بندن میاں آج بھی بوڑھوں کی آنکھوں میں وہی پرانا دکھ اور نوجوانوں کے لہجوں میں وہی نیا فریب دیکھ رہا ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا کیونکہ نظام بدلا نہیں صرف چہرے بدلے ہیں بندن میاں یہ بھی جانتا ہے کہ تنہائی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے حالانکہ تنہائی وہ مقام ہے جہاں انسان خود سے ملتا ہے اور خود سے ملنے والا انسان پھر کسی بھیڑ کا محتاج نہیں رہتا بندن میاں آج بھی یہی کہہ رہا ہے کہ امیدیں کم رکھو مگر حوصلے بلند رکھو کیونکہ امیدوں کا ٹوٹنا وقتی درد دیتا ہے مگر حوصلے کا ٹوٹنا انسان کو اندر سے ختم کر دیتا ہے بندن میاں اپنی بیٹھک میں بیٹھ کر یہ منظر بھی دیکھ رہا ہے کہ جو لوگ ہر وقت ساتھ ہونے کے دعوے کرتے ہیں وہی سب سے پہلے مشکل میں بہانے تراشتے ہیں اس لیے وہ کسی کو نام لے کر نہیں پکارتا بلکہ سب کو آئینہ دکھاتا ہے تاکہ جسے اپنا عکس پہچاننا ہو وہ پہچان لے بندن میاں نہ ماضی کا قصہ ہے نہ حال کی خبر بلکہ وہ ایک مسلسل کیفیت ہے وہ ہر اس دل میں زندہ ہے جو دھوکہ کھا کر بھی نفرت نہیں بلکہ فہم سیکھتا ہے جو زخم کھا کر بھی بدلہ نہیں بلکہ بصیرت اختیار کرتا ہے بندن میاں آج بھی آخر میں وہی دعا دہراتا ہے جو اس کی بیٹھک کی پہچان ہے کہ اے خدا ہمیں اتنا خوددار بنا کہ ہم سہارے تلاش نہ کریں اور اتنا باشعور بنا کہ مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے خنجروں کو پہچان سکیں کیونکہ بندن میاں جانتا ہے کہ جب انسان خود اپنا مضبوط سہارا بن جائے تو نہ کوئی وار اسے گرا سکتا ہے نہ کوئی فریب اسے راستے سے ہٹا سکتا ہے اور یہی بندن میاں ہے جو تھا بھی ہے بھی اور رہے گا بھی کیونکہ بندن میاں کسی زمانے کا نام نہیں بندن میاں اس شعور کا نام ہے جو ہر دور میں سچ کے ساتھ کھڑا رہتا ہے بندن میاں کی بیٹھک میں بیٹھ کر انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں سب سے بڑی طاقت خود کو پہچاننے اور اپنے اندر کے ستون کو مضبوط کرنے میں چھپی ہے بندن میاں دیکھتا ہے کہ لوگ اکثر دوسروں کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر کرتے ہیں اور پھر خود کو بے وقعت سمجھ بیٹھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان اپنے اندر کے ستون کو مضبوط رکھے تو نہ تعریف اسے اڑا سکتی ہے نہ تنقید اسے گرا سکتی ہے ہر مسکراتا ہوا چہرہ سچ نہیں ہوتا اور ہر وہ انسان جو وفاداری کے دعوے کرتا ہے ضرورت پڑنے پر اپنا راستہ بدل سکتا ہے اس لیے بندن میاں کہتا ہے کہ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی سمجھداری اور تجربے کی بنیاد پر فیصلہ کرے کہ کس پر اعتماد کرنا ہے اور کس کے نقاب کے پیچھے خنجروں کی چمک چھپی ہوئی ہے بندن میاں جانتا ہے کہ دھوکہ، فریب اور منافقت صرف پرانے قصے نہیں بلکہ روزمرہ کا حصہ ہیں اور یہی چیزیں انسان کو یا تو ٹوٹ کر بکھرنے پر مجبور کرتی ہیں یا پھر مضبوط اور سمجھدار بنا دیتی ہیں وہ خود مثال ہے کہ ٹوٹنے کے بعد بھی انسان بکھر کر سمجھدار ہو سکتا ہے اور یہی سمجھداری اسے اصل طاقت عطا کرتی ہے بندن میاں اپنی بیٹھک میں بیٹھ کر یہ بھی دیکھتا ہے کہ لوگ اکثر تعریف کے دو لفظ سن کر اپنی ریڑھ کی ہڈی دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور تنقید کا ایک جملہ سن کر خود کو کمزور محسوس کرنے لگتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اپنے اندر کا ستون مضبوط رکھنے والا انسان کسی کے وار سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کے فریب کے سامنے جھکنے کو تیار ہوتا ہے بندن میاں سمجھتا ہے کہ تنہائی کمزوری نہیں بلکہ وہ مقام ہے جہاں انسان خود سے ملتا ہے اور خود سے ملنے والا پھر کسی بھیڑ کا محتاج نہیں رہتا بلکہ اپنی طاقت اور حوصلے کی بنیاد پر زندگی کے ہر طوفان سے نکلنے کے قابل ہوتا ہے بندن میاں اپنی بیٹھک میں بیٹھ کر نوجوانوں کو یہی سبق دیتا ہے کہ دنیا میں ہر شخص جو ساتھ نظر آئے وہ ضروری نہیں کہ اپنا ہو اور ہر مسکراتا چہرہ سچ کا نمائندہ نہیں ہوتا کیونکہ دنیا میں ہمدردی کم اور دلچسپی زیادہ ہے دلچسپی اکثر زخم گننے کے لیے ہوتی ہے مرہم رکھنے کے لیے نہیں بندن میاں کے نزدیک ہر زخم انسان کو یا تو توڑ دیتا ہے یا اسے زیادہ سمجھدار اور مضبوط بنا دیتا ہے اور اسی وجہ سے وہ کہتا ہے کہ اصل طاقت انسان کے اپنے اندر چھپی ہے کیونکہ جب سارے سہارے آزمائش بن جائیں تب جو اپنے اندر کھڑا رہے وہی جیتا ہے اور یہی بندن میاں کی بنیادی تعلیم ہے کہ انسان خود اپنی زندگی کا مضبوط سہارا بنے نہ کہ دوسروں کی تعریف اور توجہ کا محتاج رہے بندن میاں کے مشاہدات میں یہ بھی شامل ہے کہ لوگ اکثر موقع پڑنے پر سب سے پہلے غائب ہو جاتے ہیں اور ان کے وعدے اور دعوے محض لفظ بن کر رہ جاتے ہیں اس لیے بندن میاں سب کو آئینہ دکھاتا ہے تاکہ ہر شخص اپنے اصل عکس کو پہچان سکے اور اپنی زندگی کے فیصلے سمجھداری سے کرے بندن میاں کی بیٹھک میں بیٹھ کر انسان یہ بھی سمجھتا ہے کہ زندگی میں امیدیں کم رکھنا چاہیے مگر حوصلے بلند رکھنا ضروری ہے کیونکہ امیدیں ٹوٹ سکتی ہیں اور وقتی درد دیتی ہیں مگر حوصلہ جو انسان کے اندر موجود ہوتا ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور یہی حوصلہ انسان کو ہر دھوکہ، ہر فریب اور ہر آزمائش سے نکالنے کی طاقت دیتا ہے بندن میاں کے نزدیک زندگی کا اصل سبق یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کی طاقت اور سمجھداری کو پہچانے اور کسی کے وار یا فریب سے متاثر نہ ہو کیونکہ یہ طاقت اور شعور ہی انسان کو ہر مشکل وقت میں سنبھال کر آگے بڑھنے کی صلاحیت دیتا ہے اور اسی وجہ سے بندن میاں آج بھی اپنی بیٹھک میں موجود ہے کیونکہ وہ کسی زمانے کا نام نہیں بلکہ ایک شعور اور فہم کا نام ہے جو ہر دور میں سچ کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اور ہر انسان کے دل میں موجود ہو سکتا ہے جو دھوکہ کھا کر بھی نفرت نہیں بلکہ بصیرت اختیار کرتا ہے اور جو زخم کھا کر بھی بدلہ نہیں بلکہ سمجھداری اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے بندن میاں جانتا ہے کہ اصل طاقت خودی میں ہے اور جب انسان خود اپنا مضبوط سہارا بن جائے تو نہ کوئی وار اسے گرا سکتا ہے نہ کوئی فریب اسے راستے سے ہٹا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بندن میاں آج بھی اسی بیٹھک میں بیٹھا ہے جہاں ہر لفظ کا وزن ہے اور ہر خاموشی میں سبق چھپا ہوا ہے اور جہاں زندگی کے اصل سبق وہی سیکھتے ہیں جو دھوکہ کھا کر بھی اپنے دل کو صاف اور اپنے شعور کو مضبوط رکھتے ہیں اور یہی بندن میاں کی پہچان ہے جو تھا بھی ہے بھی اور رہے گا بھی