اکتوبر 29, 2026

امریکا نے غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ ‘نیو غزہ’ پیش کر دیا

امریکا نے غزہ پیس بورڈ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ بھی پیش کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے عالمی اقتصادی فورم میں ‘نیو غزہ’ منصوبہ پیش کیا، جس کا مقصد غزہ کی دو سالہ جنگ کے بعد علاقے کی مکمل تعمیر نو ہے۔

کشنر نے بتایا کہ غزہ کی جنگ میں 90 ہزار ٹن گولہ بارود استعمال ہوا، جس سے ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور 60 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ جمع ہوگیا۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی، جس میں مختلف زونز میں رہائش، ڈیٹا سینٹرز اور صنعتی پارکس قائم کیے جائیں گے۔

کشنر کے مطابق رفح سے آغاز ہوگا، جہاں مزدوروں کی رہائش کا انتظام کیا جائے گا۔ ملبے ہٹانے کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، اور اس کے بعد نیا غزہ تعمیر ہوگا، جس میں صنعتی شعبے، رہائشی علاقے اور نئی امید کے ساتھ جدید انفراسٹرکچر ہوگا۔ سلائیڈ شو میں بحرِ روم کے ساحل پر بلند و بالا ٹاورز دکھائے گئے جو دبئی یا سنگاپور کی طرح چمکدار ہوں گے۔

کشنر نے اعلان کیا کہ آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی، جہاں نجی شعبے کی جانب سے عطیات کا اعلان کیا جائے گا۔

تاہم، خبر ایجنسی کے مطابق منصوبے میں کچھ اہم مسائل زیر غور نہیں آئے، جیسے کہ جنگ کے دوران اپنے گھر، کاروبار یا روزگار کھونے والے فلسطینیوں کے حقوق یا معاوضے کا مسئلہ، اور تعمیر نو کے دوران بے گھر فلسطینی کہاں رہیں گے۔