اکتوبر 29, 2026

پنجاب بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن کا سخت ایکشن، 10 فروری کی ڈیڈ لائن مقرر

اسلام آباد: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں طویل تاخیر پر الیکشن کمیشن نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی ہے، جسے 10 فروری تک تمام معاملات حل کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت مقررہ ٹائم لائن کے مطابق دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ صوبائی حکومتیں الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری نہیں کر سکتیں، جبکہ پنجاب میں تین مرتبہ حلقہ بندیاں ہونے سے عوامی وسائل ضائع ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ 2021 سے پنجاب میں لوکل حکومت کا نہ ہونا باعثِ تشویش ہے، مقامی حکومت وفاقی اور صوبائی حکومت سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ تاخیر ڈی مارکیشن رولز اور کابینہ منظوری کے باعث ہوئی، تاہم اب رولز نوٹیفائی ہو چکے ہیں اور ڈی مارکیشن کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے اسپیشل سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرتے ہوئے ہدایت کی کہ لاہور میں پنجاب حکومت کی کمیٹی کے ساتھ مسلسل اجلاس کر کے 10 فروری تک پیش رفت مکمل کی جائے، جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 20 فروری کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے خبردار کیا کہ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو کمیشن خود کارروائی کرتے ہوئے الیکشن کے انعقاد کے لیے سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔