تحریر: محمد انور بھٹی
ڈیجیٹل خوابوں کی دکان پائی اور روبی کا سچ یہ عہد اسکرینوں کا ہے جہاں خواب بھی ایپس میں بیچے جاتے ہیں اور امیدیں نوٹیفکیشن کی آواز پر جاگتی ہیں ایک بٹن دباؤ اور امیر ہو جاؤ یہی وہ نعرہ ہے جس نے پائی اور روبی جیسے منصوبوں کو عوامی گفتگو کا مرکز بنا دیا ہے یہاں سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں متوجہ ہوئے سوال یہ ہے کہ حقیقت کہاں ہے اور یہ حقیقت کیوں بار بار ایک جیسے خوابوں میں لپیٹ کر ہمارے سامنے رکھی جاتی ہے پائی ہو یا روبی دونوں نے ایک ہی انسانی نفسیات کو چھوا ہے وہ نفسیات جو محنت کم اور امید زیادہ چاہتی ہے جو فوری نجات کا راستہ ڈھونڈتی ہے جو طویل جدوجہد سے گھبرا کر ایک بٹن میں چھپی تقدیر پر ایمان لے آتی ہے موبائل ہاتھ میں ہے وقت ویسے بھی ضائع ہو رہا ہے تو کیوں نہ روز ایک بٹن دبا لیا جائے شاید کل قیمت لگ جائے شاید قسمت جاگ جائے یہی شاید ان منصوبوں کی اصل کرنسی ہے یہی وہ خاموش سودا ہے جس میں صارف اپنا وقت دیتا ہے اور بدلے میں اسے امید دی جاتی ہے پائی نیٹ ورک نے ابتدا میں خود کو نسبتاً سنجیدہ انداز میں پیش کیا جامعہ کا حوالہ تعارفی دستاویز کی بات اندرونی نظام کی تشکیل اور فائر سائیڈ جیسے پلیٹ فارم یہ سب اس بات کا تاثر دیتے ہیں کہ یہاں محض نعرہ نہیں بلکہ کوئی ڈھانچہ بھی موجود ہے مگر برسوں گزرنے کے بعد بھی زمینی حقیقت یہی ہے کہ پائی ابھی تک کھلی منڈی میں نہیں آیا جو کچھ ہے وہ بند دائرے میں ہے اندرونی کریڈٹ اندرونی استعمال اور اندرونی وعدے یعنی ایک ایسی دنیا جو اپنے ہی قوانین کے تحت چل رہی ہے جہاں قیمت کا تعین بازار نہیں بلکہ منصوبہ خود کرتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سوال اٹھتا ہے کہ اگر کسی سکے کی قدر کا فیصلہ آزاد منڈی نہ کرے تو وہ قدر دراصل قدر نہیں رہتی بلکہ ایک انتظامی عدد بن جاتی ہے روبی اس سے ایک قدم آگے نہیں بلکہ کئی قدم پیچھے دکھائی دیتا ہے زیادہ شور زیادہ حوالہ جاتی دعوتیں کم وضاحت کم شفافیت اور زیادہ خاموشی نہ واضح بلاک چین نہ مضبوط تکنیکی خاکہ اور نہ ہی حقیقی استعمال کی کوئی ٹھوس مثال روبی دراصل امید کے سہارے چلنے والی ایک ایپ ہے جس کا ایندھن لوگوں کی دعوت اور انتظار ہے یہاں صارف خود صارف بھی ہے اور تشہیر کرنے والا بھی اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ منصوبے معاشی تجربے سے زیادہ سماجی مظہر بن جاتے ہیں کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک اصول بہت واضح ہے کہ قیمت خواب سے نہیں ضرورت سے بنتی ہے جس سکے کی حقیقی ضرورت نہ ہو جسے بازار ماننے سے انکار کر دے اس کی قیمت صرف سکرین تک محدود رہتی ہے پائی اور روبی دونوں اس وقت اسی مقام پر کھڑے ہیں یہ محض اعداد ہیں اثاثہ نہیں اور جب اثاثہ نہ ہوں تو ان پر باندھے گئے خواب بھی کاغذی رہ جاتے ہیں یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور وہ ہے رسد یعنی سپلائی جب رسد حد سے زیادہ ہو تو قیمت زمین سے لگ جاتی ہے پائی میں اربوں کی تعداد پہلے ہی گردش میں ہے روبی میں بھی یہی منظر بنتا دکھائی دیتا ہے ایسے میں یہ تصور کہ ہر صارف امیر ہو جائے گا محض ایک رومانوی کہانی ہے جس کی اجازت نہ معیشت دیتی ہے نہ تاریخ اس لیے کہ دولت کی تخلیق توازن مانگتی ہے قلت مانگتی ہے اور سب سے بڑھ کر مانگ اور ضرورت کا رشتہ مانگتی ہے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ایپس استعمال کر رہے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان ایپس کو امید کا نعم البدل بنا لیا گیا ہے نوجوان کو روزگار کی فکر نہیں وہ بٹن دبا رہا ہے مزدور کو ہنر کی قدر نہیں وہ حوالہ جاتی گنتی میں لگا ہے طالب علم کتاب سے زیادہ نوٹیفکیشن کا منتظر ہے اور معاشرہ خاموشی سے ایک اور خواب کے پیچھے کھڑا ہے جس کی بنیاد میں محنت نہیں بلکہ انتظار ہے یہ بھی ماننا ہوگا کہ ان منصوبوں نے ایک بات ضرور سکھائی ہے اور وہ یہ کہ ڈیجیٹل دور میں عوام کو کیسے متحرک کیا جاتا ہے کیسے انتظار کو کامیابی کا نام دیا جاتا ہے اور کیسے غیر یقینی مستقبل کو روشن کل کہہ کر پیش کیا جاتا ہے یہ تشہیر کا کمال ہے معیشت کا نہیں یہ نفسیات کی جیت ہے پیداوار کی نہیں اگر کل پائی یا روبی منظر عام پر آ بھی جائیں تو بھی حقیقت پسندانہ سوال یہی رہے گا کہ کیا یہ سکے زندگی بدل دیں گے جواب شاید نہیں کچھ لوگوں کو فائدہ ہوگا زیادہ تر کو مایوسی اور چند دن کا شور اس کے بعد خاموشی کیونکہ کرپٹو کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں ابتدا میں تالیاں بجیں اور انجام میں سوال باقی رہ گئے دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ پائی اور روبی کو تفریحی تجربہ سمجھا جائے سرمایہ کاری نہیں ان پر پیسہ لگانا یا دوسروں کو بڑے خواب دکھانا اخلاقی طور پر بھی درست نہیں کیونکہ اصل سرمایہ آج بھی علم ہے ہنر ہے محنت ہے سچائی ہے اور وہ کردار ہے جو انسان کو خود اپنے پیروں پر کھڑا کرتا ہے جو چیز ان سب کی جگہ لینے کا دعویٰ کرے اس پر سوال اٹھانا لازم ہے آخر میں ایک سادہ مگر کڑوی بات یہ ہے کہ پائی ہو یا روبی اگر یہ نہ ہوں تو زندگی رکی نہیں رہتی مگر اگر شعور نہ ہو تو ہر نیا خواب انسان کو مزید کمزور کرتا ہے ڈیجیٹل خوابوں کی اس دکان میں داخل ہوں تو آنکھیں کھلی رکھیں کیونکہ یہاں امیدیں بیچی جاتی ہیں ضمانت نہیں اور جو معاشرے ضمانت کو بھول کر امید پر جینے لگیں وہ اکثر جاگتے کم ہیں اور انتظار زیادہ کرتے ہیں۔





