تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں جب اس امریکی حجام اور پاکستانیوں کی قطار والی کہانی سنتا اور پڑھتا ہے تو پہلے اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آتی ہے وہ مسکراہٹ جو کسی لطیفے پر نہیں بلکہ ایک جانی پہچانی تلخی پر ہوتی ہے جیسے پرانی چوٹ کو کوئی ہلکے سے چھو دے پھر آہستہ آہستہ اس مسکراہٹ میں ایک کرب اتر آتا ہے ایسا کرب جو انسان کو ہنسنے سے زیادہ سوچنے پر مجبور کر دے جیسے کسی نے ہنستے ہوئے اچانک آئینہ سامنے رکھ دیا ہو اور اس آئینے میں چہرہ اپنا ہی ہو بندن میاں کہتا ہے کہ اصل مسئلہ اس امریکی حجام کا نہیں نہ ہی اس مفت شیو کا ہے مسئلہ ہماری اس اجتماعی عادت کا ہے جو ہمیں ہر اچھے عمل کو لطیفہ بنانے ہر نیکی کو لوٹ کا موقع سمجھنے اور ہر مثال کو اپنے ہی خلاف بطور ثبوت پیش کرنے پر مجبور کر دیتی ہے
کہانی یوں سنائی جاتی ہے کہ امریکا میں ایک حجام تھا انوکھی بات یہ تھی کہ وہ اپنے گاہکوں سے پیسے بالکل نہ لیتا اور کہتا کہ میں اپنے شوق کی تکمیل کے ساتھ خدمت خلق کر رہا ہوں ایک دن ایک شخص اس کے پاس آیا بال کٹوائے شیو بنوائی جب اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے کہا بھائی میرے لیے دعا کر دینا وہ شخص پھولوں اور گفٹ کی دکان کا مالک تھا اگلے دن جب حجام صبح اپنی دکان پر پہنچا تو دیکھا کہ دکان کے باہر پھول گفٹ اور وش کارڈ آویزاں تھے اس نے خوش دلی سے وہ قبول کیے اور دل ہی دل میں اس شخص کے لیے دعا کی پھر ایک اور شخص آیا جس کی کتابوں کی دکان تھی اس نے بھی بال کٹوائے اور اگلے دن اپنی خوشی سے چند عمدہ کتابیں پیک کر کے بھجوا دیں اسی طرح ایک شخص کی گارمنٹس کی دکان تھی اس نے چند شرٹس اور ٹائیاں بھجوا دیں گویا یہ سلسلہ چل پڑا نیکی کا جواب نیکی سے عزت کا جواب عزت سے شکر کا اظہار خاموش مگر بامعنی انداز میں
پھر ایک دن ایک پاکستانی وہاں چلا گیا اس نے بھی بال کٹوائے شیو بنوائی غسل کیا اور جب اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے نہ لی اب اگلی صبح جب حجام اپنی دکان پر پہنچا تو اس نے بھلا کیا دیکھا سچے پاکستانی بن کر سوچیے اور اندازہ لگائیے اگلی صبح وہاں پچاس کے قریب پاکستانی اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ کب یہ دکان کھلے اور وہ سب مفت میں بال اور شیو بنوائیں ہم یہ کہانی بڑے فخر قہقہوں اور خود ساختہ دانش کے ساتھ سناتے ہیں اور آخر میں فیصلہ صادر کر دیتے ہیں دیکھا ہم پاکستانی ایسے ہی ہیں
یہاں بندن میاں رک جاتا ہے اور آہستہ سے پوچھتا ہے کیا واقعی یہ کہانی صرف اتنی ہے یا ہم نے خود کو برا ثابت کرنے کے شوق میں اس کہانی کو وہ رنگ دے دیا جو ہمیں وقتی تسکین دیتا ہے کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ کہانی کو یوں بھی سنایا جا سکتا تھا کہ اگلے دن وہ پچاس پاکستانی آئے اور سب نے کہا بھائی کل تم نے عزت دی آج ہم تمہاری عزت کرتے ہیں ہم مفت شیو نہیں لیں گے بلکہ دعائیں بھی دیں گے اور کچھ نہ کچھ تحفہ بھی کیونکہ یہ بھی تو ممکن تھا مگر ہم نے وہ تصویر کیوں نہ بنائی اس لیے کہ ہمیں اپنے بارے میں منفی بات کہہ کر ایک عجیب سا نشہ ملتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ خود کو برا کہہ دینا احتساب ہے حالانکہ حقیقت میں یہ احتساب نہیں بلکہ فرار ہے
بندن میاں کہتا ہے کہ اس کہانی میں پاکستانی دراصل کوئی فرد نہیں ایک سوچ ہے وہ سوچ جو ریاست کو ماں نہیں بلکہ دودھ دینے والی گائے سمجھتی ہے جو قانون کو حفاظت نہیں بلکہ رکاوٹ سمجھتی ہے جو حق کو ذمہ داری کے بغیر مانگتی ہے اور فرض کو کسی اور کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سوچ ہماری فطرت ہے یا ہماری تربیت کا نتیجہ اور اگر یہ تربیت کا نتیجہ ہے تو کیا ہم اسے بدلنے کی سکت نہیں رکھتے کیا انسان وہی رہتا ہے جو اسے سکھا دیا جائے یا وہ وہ بن سکتا ہے جو وہ خود بننے کا فیصلہ کرے
بندن میاں ذرا تلخ ہو کر کہتا ہے کہ ہمیں یہ بتانے میں بڑا مزہ آتا ہے کہ ہم قطار نہیں مانتے ہم مفت خور ہیں ہم قانون توڑتے ہیں ہم خود ہی اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں جیسے کوئی قوم نہیں بلکہ ملزم ہوں جو عدالت لگنے سے پہلے ہی جرم قبول کر کے مطمئن ہو گئی ہو مگر کیا ہم نے کبھی یہ سوال خود سے پوچھا کہ یہ کون سی دانشمندی ہے کون سی عقل ہے جو خود کو مسلسل کمتر ثابت کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے کیا واقعی ہم اتنے ہی برے ہیں جتنا ہم خود کو ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں یا ہم نے اپنی خوبیوں کو بھی لطیفوں کے نیچے دبا دیا ہے
یہ کیسی نفسیات ہے جس کے ہم اسیر ہو چکے ہیں بندن میاں کہتا ہے کہ شاید یہ وہ نفسیات ہے جس میں خود کو برا کہنا آسان ہے اور خود کو بدلنا مشکل ہم کہتے ہیں ملک خراب ہے نظام خراب ہے لوگ خراب ہیں اور اس ایک جملے میں خود کو بری الذمہ قرار دے کر چین کی نیند سو جاتے ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ آج میں قطار نہیں توڑوں گا آج میں کسی کی نیکی کو لوٹ نہیں سمجھوں گا آج میں اپنے حصے کا فرض ادا کروں گا کیونکہ یہ جملے کہنے سے پہلے انسان کو آئینے میں خود کو دیکھنا پڑتا ہے اور یہ کام سب سے مشکل ہے
بندن میاں آہستہ سے کہتا ہے کہ پاکستان زمین کا نام نہیں رویوں کا مجموعہ ہے اگر ہم سچ بولیں تو پاکستان بہتر ہو جاتا ہے اگر ہم وقت کی پابندی کریں تو پاکستان بہتر ہو جاتا ہے اگر ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ مفت کا مطلب حق نہیں بلکہ آزمائش ہے تو پاکستان بہتر ہو جاتا ہے مگر ہم نے آسان راستہ چنا ہم نے اصلاح کو مزاح بنا دیا اور تنقید کو تفریح ہم سوشل میڈیا پر ایسی کہانیاں اس لیے پھیلاتے ہیں کہ ہمیں ہنسی بھی مل جائے اور خود کو معصوم ثابت کرنے کا جواز بھی کہ دیکھو ہم اکیلے نہیں سب ہی ایسے ہیں
بندن میاں کہتا ہے کہ قومیں خود کو گالیاں دے کر نہیں سنورتیں بلکہ اپنے عیوب کو مان کر انہیں درست کرنے کا عزم کر کے سنورتی ہیں خود کو برا کہنا پہلا قدم ہو سکتا ہے مگر آخری نہیں اگر یہیں رک جائیں تو یہ خود احتساب نہیں بلکہ خود تذلیل بن جاتا ہے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے اندر اچھا بھی ہے مگر اس اچھے کو زندہ رکھنے کے لیے محنت درکار ہے قربانی درکار ہے اور سب سے بڑھ کر مستقل مزاجی درکار ہے
ہم انسان ہیں مسلمان ہیں ایک مسلمان اکثریتی ریاست میں رہتے ہیں ہماری ایک الگ پہچان ہونی چاہیے یہ پہچان خود کو چور لالچی مطلب پرست اور موقع پرست ثابت کرنے سے نہیں بنتی یہ پہچان امانت دیانت صبر شکر اور ذمہ داری سے بنتی ہے اگر ہم واقعی مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں تو پھر ہمارے رویے بھی اس فخر کا عکس ہونے چاہئیں ہم نماز پڑھیں مگر قطار نہ توڑیں ہم صدقہ دیں مگر کسی کی نیکی پر ڈاکا نہ ڈالیں ہم دوسروں سے حق مانگیں مگر اپنے فرض سے نہ بھاگیں
بندن میاں بڑی نرمی مگر پورے یقین سے کہتا ہے کہ اس کی بات پر غصہ کرنا برا مان جانا یا یہ سمجھ لینا کہ وہ کسی پر حملہ کر رہا ہے دراصل مسئلے سے بھاگنے کا ایک اور طریقہ ہے بندن میاں کوئی باہر سے آیا ہوا فلسفی نہیں وہ اسی گلی کا آدمی ہے اسی دھوپ میں پلا ہے اسی مٹی میں بیٹھا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس نے خود کو بری الذمہ قرار دینے کے بجائے خود کو کٹہرے میں کھڑا کر لیا ہے
وہ کہتا ہے کہ اگر میری بات چبھتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بات غلط ہے بلکہ شاید زخم ابھی ہرا ہے اصلاح دشمنی نہیں ہوتی آئینہ دشمن نہیں ہوتا وہ صرف چہرہ دکھاتا ہے اگر چہرے پر گرد ہے تو آئینے کو توڑنے کے بجائے چہرہ دھونا پڑتا ہے مگر ہم نے عادت بنا لی ہے کہ آئینہ دیکھتے ہی اسے دیوار پر دے ماریں تاکہ ہمیں اپنی شکل دوبارہ نہ دیکھنی پڑے
بندن میاں آخر میں ہمیں دعوت دیتا ہے کہ آئیے مل کر سوچ بدلیں الزام کے بجائے ذمہ داری اپنائیں تمسخر کے بجائے تربیت کو اختیار کریں اور حقیقت کے آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر شرمندہ ہونے کے بجائے سنورنے کا حوصلہ پیدا کریں تاکہ کل کوئی بندن میاں ہماری کہانیاں سناتے ہوئے یہ نہ کہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی خامیوں کو بھی تماشہ بنا دیا بلکہ یہ کہے کہ یہ وہ نسل تھی جس نے خود کو بدل کر ملک کا مقدر بدل دیا کیونکہ ملک کو برا کہنے سے قوم نہیں بنتی قوم کردار سے بنتی ہے اور کردار ہر فرد اپنے اندر سے شروع کرتا ہے
اور شاید اسی دن جب ہم کسی نیکی کو لطیفہ بنانے کے بجائے سبق بنائیں گے جب ہم کسی اچھی مثال کو اپنے خلاف بطور ثبوت نہیں بلکہ اپنے لیے معیار بنائیں گے جب ہم یہ کہنا چھوڑ دیں گے کہ ہم ایسے ہی ہیں اور یہ کہنا شروع کریں گے کہ ہم ایسے نہیں رہیں گے اسی دن وہ امریکی حجام والی کہانی بھی بدل جائے گی اور بندن میاں کے لبوں پر آنے والی مسکراہٹ صرف تلخی کی نہیں بلکہ امید کی مسکراہٹ ہوگی
اور بندن میاں اسی تسلسل میں بات کو آگے بڑھاتا ہے جیسے سانس لے کر پھر بول پڑا ہو وہ کہتا ہے کہ ہم نے اپنے مزاج میں ایک عجیب سی سہولت پسندی پیدا کر لی ہے ہم چاہتے ہیں کہ تبدیلی کا سارا بوجھ کوئی اور اٹھائے استاد بچے کو بدل دے مولوی معاشرے کو بدل دے حکمران قوم کو بدل دے مگر ہم خود وہیں کھڑے رہیں جہاں تھے یہ توقع رکھیں کہ قطار ٹوٹے بغیر ہمارا کام ہو جائے قانون سخت ہو مگر ہمارے لیے نرم ہو نیکی ہو مگر اس کا فائدہ ہمیں ملے ذمہ داری ہو مگر کسی اور کے سر بندن میاں کہتا ہے کہ یہی وہ ذہنی کیفیت ہے جس نے ہمیں لطیفوں کا عادی بنا دیا ہے ہم سنجیدہ بات بھی ہنستے ہوئے کہتے ہیں تاکہ اگر کوئی آئینہ دکھائے تو ہم فوراً کہہ سکیں بھائی مذاق تھا دل پر کیوں لے لیا
وہ کہتا ہے کہ سچ یہ ہے کہ ہم مذاق کے پیچھے چھپ جاتے ہیں کیونکہ سچ کا سامنا کرنے کے لیے حوصلہ چاہیے اپنے اندر جھانکنے کے لیے ہمت چاہیے اور اپنی غلطی ماننے کے لیے غیر معمولی اخلاقی طاقت درکار ہوتی ہے جو قومیں یہ طاقت پیدا کر لیتی ہیں وہ آہستہ آہستہ تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں اور جو قومیں خود کو لطیفوں میں اڑا دیتی ہیں وہ پھر تاریخ میں صرف مثال بن کر رہ جاتی ہیں مثال اس بات کی کہ کیا نہیں کرنا چاہیے
بندن میاں کہتا ہے کہ ذرا اپنے گھروں میں جھانک کر دیکھو ہم بچوں کو کیا سکھاتے ہیں ہم انہیں یہ تو سکھاتے ہیں کہ نمبر پورے آنے چاہئیں مگر یہ نہیں سکھاتے کہ نقل حرام ہے ہم انہیں یہ تو سکھاتے ہیں کہ مقابلہ جیتنا ہے مگر یہ نہیں سکھاتے کہ دھکا دے کر آگے نکلنا بددیانتی ہے ہم انہیں یہ تو بتاتے ہیں کہ حق لینا آنا چاہیے مگر یہ نہیں بتاتے کہ حق دینے سے معاشرہ بنتا ہے پھر جب وہی بچے بڑے ہو کر قطار توڑتے ہیں سفارش ڈھونڈتے ہیں مفت کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو ہم حیران ہونے کا ناٹک کرتے ہیں حالانکہ یہ سب ہم نے ہی بویا ہوتا ہے
وہ کہتا ہے کہ امریکی حجام والی کہانی ہمیں اس لیے زیادہ پسند آتی ہے کہ اس میں ہمیں محنت نہیں کرنی پڑتی نہ اپنے رویے بدلنے پڑتے ہیں بس ایک قہقہہ لگاؤ اور خود کو قوم کی خرابیوں کا حصہ مان کر بری الذمہ ہو جاؤ بندن میاں کہتا ہے کہ اگر واقعی ہم اتنے ہی خود تنقید ہیں جتنا ہم دعویٰ کرتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے ہر عمل کے بعد یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ میں نے اس لطیفے سے کیا سیکھا میں نے اس کہانی کے بعد کون سا رویہ بدلا اگر جواب کچھ بھی نہیں تو پھر سمجھ لو کہ یہ دانش نہیں صرف ذہنی عیاشی تھی
بندن میاں مزید کہتا ہے کہ دنیا کی کوئی قوم پیدائشی طور پر بدتمیز یا بددیانت نہیں ہوتی قومیں بنتی ہیں تربیت سے رویوں سے اور مسلسل یاد دہانی سے اگر جاپان میں قطار بنتی ہے تو اس لیے نہیں کہ وہاں کے لوگ فرشتے ہیں بلکہ اس لیے کہ وہاں قطار نہ بنانے پر شرمندگی ہوتی ہے اگر یورپ میں قانون مانا جاتا ہے تو اس لیے نہیں کہ وہاں سب نیک ہیں بلکہ اس لیے کہ قانون توڑنا سماجی طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے ہمارے ہاں الٹا ہے یہاں قانون ماننے والا خود کو بیوقوف سمجھنے لگتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں بندن میاں کی بات چبھتی ہے
وہ کہتا ہے کہ ہمیں شرمندگی کا معیار بدلنا ہوگا ہمیں اس بات پر شرمندہ ہونا ہوگا کہ ہم نے قطار توڑی ہم نے کسی کی نیکی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہم نے جھوٹ بول کر آسانی پیدا کی جب تک ہماری شرمندگی کا رخ درست نہیں ہوگا تب تک ہمارے قہقہے ہمیں کہیں نہیں لے جائیں گے بندن میاں کہتا ہے کہ شرمندگی وہ اینٹ ہے جس سے کردار کی دیوار بنتی ہے مگر ہم نے اس اینٹ کو ہی مذاق بنا دیا ہے
وہ کہتا ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم خود کو کوستے رہیں میں یہ بھی نہیں کہتا کہ ہم اپنی خامیوں پر پردہ ڈالیں میں صرف یہ کہتا ہوں کہ خود کلامی ایماندار ہونی چاہیے جب ہم کہیں کہ ہم ایسے ہیں تو ساتھ یہ بھی کہیں کہ ہمیں ایسا نہیں رہنا اور یہ فیصلہ کسی جلسے کسی تقریر کسی پوسٹ سے نہیں ہوتا یہ فیصلہ اس لمحے ہوتا ہے جب کوئی ہمیں بغیر پیسے کے خدمت دے اور ہم اگلے دن پچاس لوگ لے کر پہنچنے کے بجائے ایک شکر گزاری کا رویہ لے کر پہنچیں
بندن میاں کہتا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں سنجیدگی سے لے تو ہمیں خود کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا ہمیں اپنی شناخت قہقہوں سے نہیں کردار سے بنانی ہوگی ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہر لطیفہ اگر ہمیں بدل نہیں رہا تو ہمیں کھوکھلا کر رہا ہے اور ہم نے بہت عرصہ یہی کیا ہے ہم نے خود پر ہنس ہنس کر خود کو کمزور کر لیا ہے
وہ آخر میں پھر آہستہ سے دہراتا ہے کہ اس کی بات پر غصہ نہ کرنا برا نہ ماننا کیونکہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے بس فرق یہ ہے کہ اس نے ہنستے ہوئے آئینہ دیکھنے کے بجائے رک کر اس میں اپنا چہرہ غور سے دیکھا ہے وہ کہتا ہے کہ آئینہ دکھانے والا دشمن نہیں ہوتا دشمن وہ ہوتا ہے جو آئینہ توڑ دے تاکہ تم اپنی گرد نہ دیکھ سکو
اور یوں بندن میاں بات ختم نہیں کرتا بلکہ ہمارے حوالے کر دیتا ہے وہ کہتا ہے اب فیصلہ تم نے کرنا ہے کہ امریکی حجام والی کہانی اگلی بار سنو تو صرف ہنسو گے یا ایک لمحہ رک کر سوچو گے کہ اگر میں وہاں ہوتا تو کیا کرتا کیونکہ اسی ایک سوال کے جواب میں قومیں بنتی اور بگڑتی ہیں اور شاید یہی وہ سوال ہے جس سے ہم برسوں سے بھاگتے آئے ہیں مگر اب اگر ہم واقعی سنورنا چاہتے ہیں تو اس سے نظریں نہیں چرا سکتے کیونکہ آخرکار ملک کو برا کہنے سے قوم نہیں بنتی قوم کردار سے بنتی ہے اور کردار ہر فرد اپنے اندر سے شروع کرتا ہے




