تحریر: ایم سرور صدیقی
چندماہ پہلے پولیس کی ایک اعلیٰ افسر رم جھم رم جھم پھواڑ میں سائیکل پر کافی دیرشہر کی سڑکوں پر بارش سے لطف اندوز ہوتی رہیں اس موقعہ پر شہرکی مصروف ترین سڑک بندکردی گئی موصوفہ کئی سائیکل سوار خواتین کے ہمراہ وردی میں ملبوس تھیں ان کے عقب میں پولیس کی سرکاری گاڑیاں بھی آہستہ آہستہ چلتی دکھائی دے رہی تھیں چند روز پیشتر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ ملک سیلاب میں ڈوبا پڑا تھا متاثرین کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور اشرافیہ کو اٹھکیلیاں سوج رہی تھیں۔۔ایک اور واقعہ میں ایک پولیس افسرسیلاب میں ڈوبے ایک شہری کو ڈانٹ رہے کہ تم نے مجھے1122والا سمجھ لیاہے اس کی آکڑ اور غصہ دیدنی تھا اور انداز ِ تکلم انتہائی بیہودہ۔۔ انہی دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر گردش کر رہی تھی۔ ایک بڑے صاحب سیلاب کا معائنہ کرنے نکلے تھے۔ چاروں طرف پانی ہی پانی، بربادی ہی بربادی تھی لوگ اپنے گھروں کے ملبے پر بیٹھے رو رہے تھے، بچے بھوک سے بلک رہے تھے قیامت کا منظر کوئی داد نہ دادرسی ان لوگوں کی حالت اور حالات دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا چہرہ چہرہ حسرت و یاس کا مارا ہوا ہر نظرسوالی۔۔ مگر ان صاحب کی خواہش تھی ان کے سر پر بارش کی ایک بوند بھی نہ پڑے اس کے لئے ایک ملازم ان کے پیچھے چھتری تھامے کھڑا تھا۔ پورا ملک پانی میں ڈوب گیا، لیکن "صاحب” پر بارش نہیں پڑنی چاہیے تھی۔ چندسال پہلے سندھ کے گورنر کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر کتا بیٹھ کر سیر کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، اور تو اور آج کل ٹریفک پولیس کی چیرہ دستیوں،اختیارات سے تجاوز اور عوام کے ساتھ بے رحم سلوک کی درجنوں ویڈیو سوشل میڈیاپر گردش کررہی ہیں یہ مناظر ایک مائنڈسیٹ ہے جس نے ہمارے پورے معاشرے کو اپ سیٹ کرکے رکھ دیاہے حکمرانوں کے پروٹوکول اور سرکاری افسروں کے اللے تللے ہمارے جیسے غریبوں کے لئے یہ منہ اور مسورکی دال جیسی کہاوت کے مصداق ہے اوراشرافیہ کی یہ سوچ پورے سسٹم کا نچوڑ ہے بے شک عوام غرق ہوتے ہیں ہوتے رہیں اور افسر وں کو صرف اپنی سوٹ کی شکن، جوتے کی چمک اور اپنی تمکنت کی فکر ہوتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس قوم کے افسر بارش سے بچنے کے لئے ملازموں کو آگے کر دیں پھر اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے وہ عام آدمی کوسیلاب سے کیسے بچا سکتے ہیں؟ شاید اسی بناء پر انڈین سول سروس کے انگریز افسر جب ریٹائر ہو کر اپنے وطن برطانیہ پہنچتے تھے تو انکو کسی قسم کی جاب نہیں دی جاتی تھی کیونکہ حکومت کو خدشہ تھا کہ ان افسروں کی مزاج اور عادتیں بدل چکی ہیں کہیں یہ افسروں کا رویہ برطانوی شہریوں کے ساتھ انڈین عوام کی طرح نہ ہو درحقیقت پاکستان نے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل تو کرلی لیکن انگریزوں کے غلاموں کی غلامی سے نجات حاصل نہیں کی سکی اسی لئے یہ سسٹم عام پاکستانیوں کااستحصال کررہاہے ہمارے سیاستدانوں، بیوروکریسی،جاگیرداروں اور ان کے حامیوں کو یہ سسٹم سوٹ کرتاہے کیونکہ قیام ِ پاکستان میں ایک منصوبے کے تحت طاقت،اقتدار اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل ہی نہیں کیا گیاجب دولت اور اختیارات ہی معاشرے میں ترقی کا پیمانہ بنا دیا جائے تو پھر سیاستدانوں، بیوروکریسی پر مشتمل اشرافیہ اور کسی بھی لیول کے عوامی نمائند وں کے اندر برسوں کی محرومیاں اور دولت کی ہوس جمع ہوجاتی ہیں۔ اور پھر تو وہ محرومی ایک زہر کی طرح پورے سماج میں پھیلنے لگتی ہے اور معاشرہ میں وہی کچھ ہوتاہے جو ایک پولیس افسر سیلاب میں ڈوبے شہری کے ساتھ سلوک روا کیا جاتاہے یا چند بارش کے چھنٹے بھی مزاج برہم کرسکتاہے یہی کہانی ہمارے CSS افسران کی بھی ہے جوانٹرویو کے دوران اپنے اندر کے خوف سے کانپتے ہیں، وہی جب کرسی پر جا بیٹھتے ہیں تو وہی خوف دوسروں پر مسلط کرنے لگتے ہیں اور اپنی محرومیوں اور اپنی تکالیف کا بدلہ عوام سے لیتے ہیں عام آدمی سے اوپر اٹھنے والے سیاستدان ہوں فوجی یا سول سروس کے افسران سب کے سب موجودہ استحصالی نظام کو مزید تقویت دے رہے ہیں کیونکہ اسی نظام کی تبخیر سے وہ سٹیٹ سے زیادہ طاقتوربن جاتے ہیں اور تخریب ان کے مزاج میں بھرجاتی ہے ایک دانشور کا کہنا تھالوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا اصل میں سب سے بڑی تخریب کاری ہے عام آدی کو مسائل دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں لیکن اشرافیہ رم جھم رم جھم پھواڑ میں سائیکل پر موج مستی کرنے کو ہی خدمت سمجھ بیٹھی ہے جب تک ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی نہیں آجاتی پاکستان ترقی کرسکتاہے نہ عام پاکستانی کے مسائل حل ہوں گے۔ آج کے پاکستان میں پون صدی گذرنے کے باوجود وہی روایتی جاگیردار ہیں جن کی چوتھی نسل اختیارات انجوائے کررہی ہے۔ آپ خود بھی کبھی غورکریں ایک بات نتیجے کے طورپر ہمارا منہ چڑارہی ہوگی کہ آج کے پاکستان اور آج کے بھارت میں کوئی فرق نہیں وہاں بھی مسلمان آج بھی محکوم ہیں اورپاکستان میں بھی کروڑوں ہم وطن محکوم ہیں جو زندگی کی بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں غربت کو جن کے لئے بدنصیبی بنادیاگیاہے ہمارے دیہات اور شہر اسی غلامی کی گواہی دے رہے ہیں آج بھی جاگیردار اور وڈیرے اقتدار کے ایوانوں میں ہیں بیوروکریسی اور سیاستدانوں کا اعلانیہ،غیر اعلانیہ اتحاد اصل مسائل کا پیش خیمہ ہے ذرا غورکریں ”پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ“ سے لے کر ”صوبائی حکومتوں“ تک ہر ادارہ ان ہی اشرافیہ کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے سیلاب یا کوئی قدرتی آفات آئیں تو فیصلہ یہ ہوتا ہے کون سا بند توڑیں تاکہ سردار کی زمین بچ جائے یا کسی سرمایہ دار کی ہاؤسنگ سوسائٹی کو بچانے کے لئے اور غریب کا پوراگاؤں ڈبودیا جائے. غلامی کی شکلیں بدلتی ہیں پہلے غلامی براہِ راست انگریز کے حکم سے تھی آج غلامی IMF کے قرضوں، لینڈمافیا،جاگیرداروں کے قبضوں، اور بدانتظامی کے نام پر ہے۔ یہ حقیقت ہے ہمارے آباؤ اجداد انگریزوں کے غلام تھے، اور ہم آج IMF کے غلام ہیں غلامی کا سلسلہ جنگوں سے سیلاب تک دراز ہے اصل میں یہ غلامی معاشی کی جدید شکل ہے، سیاسی اور سماجی آزادی آج بھی جوں کی توں محکوم ہے سچ یہ ہے کہ یہ نوشتہئ دیوار ہے جب تک زمین اور اقتدار چند خاندانوں اور جاگیرداروں کے قبضے میں ہیں اس ملک کے غریب ہمیشہ غلام رہیں گے ان کی کوئی دادفریادسننے والا ہے نہ دادرسی کرنے والا سیلاب متاثرین کی حالت اور حالات دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے چہرہ چہرہ حسرت و یاس کا مارا ہوا ہر نظرسوالی لیکن۔۔ ایک دانشور کا کہنا تھالوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا اصل میں سب سے بڑی تخریب کاری ہے عام آدی کو مسائل دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں لیکن اشرافیہ رم جھم رم جھم پھواڑ میں سائیکل پر موج مستی کرنے کو ہی خدمت سمجھ بیٹھی ہے جب تک ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی نہیں آجاتی پاکستان ترقی کرسکتاہے نہ عام پاکستانی کے مسائل حل ہوں گے۔




