وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج ہنگامی اجلاس کرے گی۔ وینزویلا میں امریکی کارروائی کے عالمی سطح پر شدید ردعمل کے پیشِ نظر اجلاس میں معاملے پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کی تیل برآمدات مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اقتدار کی منتقلی تک امریکا وینزویلا کے معاملات خود چلائے گا اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو اپنی تحویل میں لیا جائے گا۔ امریکی تیل کمپنیاں بھی وینزویلا میں کام کریں گی۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر امریکا میں سال 2020 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور انہیں ایک بہت پُرکشش پیشکش بھی کی گئی تھی۔ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ گیم نہیں کھیلتے، وہ جو کہتے ہیں، کر کے دکھاتے ہیں۔
دوسری جانب چیئرمین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا کہ وینزویلا میں کیے گئے امریکی فوجی آپریشن میں 150 سے زائد بمبار اور فائٹر طیاروں نے حصہ لیا۔





