اسرائیل نے غزہ میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز اور آکسفیم سمیت 37 بڑے امدادی اداروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ ان امدادی تنظیموں نے اپنے فلسطینی عملے سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں، جس کے باعث سکیورٹی اور شفافیت کے خدشات پیدا ہوئے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جو تنظیمیں مقررہ سکیورٹی اور شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اتریں گی، ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے غزہ میں پہلے سے جاری انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی اداروں پر پابندیاں علاقے میں متاثرہ آبادی کے لیے حالات کو اور زیادہ مشکل بنا دیں گی۔
واضح رہے کہ دو روز قبل کینیڈا، برطانیہ، فرانس سمیت 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ غزہ میں امداد کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں 16 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ سردی اور بارش کے باعث حالات مزید خراب ہو چکے ہیں اور تقریباً 13 لاکھ افراد کو فوری پناہ کی ضرورت ہے۔
ان ممالک نے مطالبہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ اور یو این آر ڈبلیو اے کو مکمل رسائی دی جائے اور رفح سمیت تمام گزرگاہیں کھول کر انسانی امداد میں فوری اضافہ کیا جائے۔





