نومبر 1, 2026

قسمت اور قیمت

تحریر: ایم سرور صدیقی

امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہ‘ کا دانش سے لبریز ایک قول ہے کہ ہمیشہ اللہ سے اچھی قسمت کے لئے دعا کیا کریں آپ غور کریں اچھی قسمت مانگنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ سے صحت، دولت،حسن کے ساتھ ساتھ بے پناہ نعمتوں کا طلب گارہوتاہے شاید یہ حقیقت امریکہ کے ایک سابقہ صدر ونسٹن چرچل پر آشکارہوگئی تھی ان کی ایک عجیب عادت تھی اس کے دعا دینے کا اندازنے انوکھا اور نوالا تھا وہ اکثر کہا کرتے تھے:”میں کبھی کسی کی صحت یا دولت کی دعا نہیں کرتا میں انہیں صرف قسمت کی دعا دیتا ہوں غور کریں ٹائی ٹینک کے بیشتر مسافر صحت مند اور مالدار تھے مگر قسمت نے یاوری نہیں کی سب سے سب سمندر کی بے رحم موجوں میں ڈوب کر مرگئے "یہ بات واقعی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کچھ لوگ اسے اتفاق بھی کہہ سکتے ہیں شاید آپ اسے بھی اتفاق ہی سمجھ لیں کہ ایک بڑی امریکی کمپنی کا ایک اعلیٰ افسر صرف اس لیے 9/11 کے حملے سے بچ گیا کیونکہ وہ اْس صبح اپنے بیٹے کو پہلی بار کنڈرگارٹن لے گیا تھا؟ ایک اور شخص زندہ بچ گیاکیونکہ اْس کی باری تھی کہ وہ ڈونٹ خریدنے جائے۔ ایک عورت دیر سے پہنچی کیونکہ اْس کی الارم گھڑی نہیں بجی۔ ایک اور ٹریفک میں پھنس گیا نیو جرسی ٹرن پائک پر۔ ایک بس چھوٹ گئی۔ ایک خاتون نے کپڑوں پر کافی گرا دی اور بدلنا پڑا۔ ایک شخص کی گاڑی اسٹارٹ نہیں ہوئی۔ ایک نے گھر سے نکلنے سے پہلے فون کا جواب دیا۔ ایک کو کیب نہیں ملی۔ لیکن جو کہانی مجھے سب سے زیادہ متاثر کر گئی، وہ یہ ہے ایک شخص نے اس صبح نئے جوتے پہنے۔ راستے میں جوتے نے اْس کے پیر پر چھالہ دے دیا۔ وہ دواخانے رکا کہ فرسٹ ایڈپٹی خریدلے اسی لئے وہ زندہ ہے۔ تو اب جب بھی مجھے ٹریفک میں پھنسنا پڑے یا لفٹ چھوٹ جائے یا چابی لینے واپس جانا پڑے… میں یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں شاید میں بالکل اْس جگہ ہوں جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا۔اگلی بار جب آپ کی صبح منصوبے کے مطابق نہ چلے بچے دیر سے تیار ہو رہے ہوں، چابیاں نہ مل رہی ہوں، یا ہر ٹریفک سگنل سرخ ہو تو ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔فکر نہ کریں جلدی نہ کریں۔آپ نہیں جانتے کہ قسمت کا کون سا موڑ آپ کی تاخیر میں آپ کی حفاظت کر رہا ہے۔کبھی کبھی، جو چیز ناکامی لگتی ہے وہ درحقیقت خدا کی عنایت ہوتی ہے اسی لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی اور اپنے اہل ِخانہ کی اچھی قسمت کی دعا کیا کریں جس سے مشکلات ٹل جاتی ہیں۔اب ایک سچاواقعہ بھی ملاحظہ فرمالیں حضرت مالکؒ بن دینار ایک مرتبہ بصرے کے بازار سے گزر رہے تھے۔ آپ نے ایک لونڈی کو دیکھ کر اس کے مالک سے اس کی قیمت پوچھی۔ وہ کہنے لگا آپ درویش آدمی ہیں آپ اس کی قیمت نہ دے سکیں گے۔ حضرت مالکؒ بن دینار نے فرمایا کہ یہ بیچاری کیا مال ہے میں نے بڑی بڑی گراں قدر لونڈیوں کا بیعنامہ دے رکھا ہے۔ اس لونڈی کی قیمت تو میرے نزدیک کچھ بھی نہیں۔ اگر کچھ ہے تو کھجور کی دو گٹھلیاں ہیں۔ اور وہ اس لئے کہ اس لونڈی میں بہت سے عیب ہیں۔ دو دن عطر نہ لگائے تو بدن اور کپڑوں سے بدبو آنے لگے۔ مسواک نہ کرے تو گندہ دہن ہو جائے، کنگھی چوٹی سے غافل رہے تو سر میں جوئیں پڑ جائیں زیادہ عمر والی ہو کر بڑھیا کہلانے لگے۔ اس کا کوئی مہینہ نجاست سے خالی نہیں۔ بھائی جان میں نے ان لونڈیوں کا بیعنامہ دے رکھا ہے جو کافور و مشک اور سر اسر نور سے پیدا ہوئیں جن کا لعب دہن دریائے شعور کو میٹھا کر دے۔ جن کا تبسم مردہ کو زندہ کر دے۔ جن کا چہرہ چشمہ آفتاب کو گدلا کر دے اور جن کا حلیہ جہان کو معطر کر دے۔ اور جن کی صفت کہ وہ خیموں میں قیام پذیر ہیں۔ اس شخص نے پوچھا کہ ایسی حسین و جمیلوں کی کیا قیمت ہے۔ حضرت مالک بن دینارؒ نے فرمایا ترک خواہشات نفسانی اور رات کو دو رکعت پڑھ لینا۔ یہ سن کر اس شخص نے اپنی تمام غلام اور لونڈیوں کو آزاد کر دیا اور خدا کی راہ میں سب کچھ لٹا کرگوشہ نشین ہو گیا۔ (نزہتہ المجالس) اب آپ محسوس کریں کہ دنیا کی ہر چیز فانی اور غیر مکمل ہے۔ اور اخرت کی نعمتیں باقی اور ہرعیب سے پاک ہیں۔ اور ترک خواہشات نفسانی سے بڑے بڑے انعام حاصل ہوتے ہیں۔
ایک سچی داستان میں اپنے عزم و پلاننگ سے اپنی قسمت بنانے والی ایک عام سی مگر ذہین فطین لڑکی کی کہانی بھی سننے کے لائق ہے مارگریٹاایک ارب پتی کی کمپنی میں باس کی سیکرٹری تھی طویل عرصے سے کام کرنے کے بعد جب وہ ریٹائر ڈہو رہی تھی باس نے اس کی کارکردگی سے خوش ہوکر الوداعی پارٹی کااہتمام کیا اورباس نے اس کے سالوں کی وفاداری سے خوش ہوکر فیصلہ کیا کہ اسے چند ملین ڈالر دے دے تاکہ وہ خوشحال زندگی بسر کرسکے لیکن باس کو حیرت کاایک جھٹکا لگا کہ مارگریٹا نے وہ خطیررقم لینے سے انکارکردیا باس نے نرمی سے ایک بارپھرانکارکردیا
باس نے پوچھ ہی لیا کہ تمہارا انکارمیری سمجھ سے بالاہے
سیکرٹری نے جوجواب دیا باس وہ سن کر دنگ رہ گیا وہ بولی میں تو پہلے ہی کچھ کروڑ پتی ہوں۔”
یہ سن کر ارب پتی باس نے کہا "لیکن… کیسے؟ آپ تو صرف پانچ یا چھ ہزار ڈالر ماہانہ کماتی تھیں اور میں اپنے ہر ملازم کے معاملات کا جائزہ لیتارہتاہوں تم بے ایمان بھی نہیں ہو پھر آپ اتنی بڑی رقم کیسے بچا سکتی تھیں؟”
مارگریٹا مسکرائی اور کہا، میں آپ کی کمپنی میں 20سالوں سے ملازم ہوں میں آپ کی میٹنگز میں بیٹھتی رہی ہوں آپ کی کاروباری سمجھ بوجھ سے میں نے بہت کچھ سیکھا جب آپ فون پر پراپرٹی خریدرہے ہوتے یا اسٹاک ایکچینج میں حصص خرید رہے تھے، میں خاموشی سے وہی کام کرتی تھی — بس چھوٹے پیمانے پر۔ میں نے آپ کی نقل کی۔ تو جب آپ نے ملینز کمائے، میں نے لاکھوں کمائے۔ اور جب آپ نے اربوں کمائے میں نے ملینز کمائے۔” میں نے ہمیشہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اچھی قسمت سے نوازے میری وہ دعا قبول ہوگئی ہر شخص کامیاب ہوسکتاہے میری طرح کوشش کرے تو یہ ممکن ہے ہروقت قسمت کو کوستے رہناکسی طورمناسب نہیں زندگی کی قیمت دعا میں پوشیدہ ہے۔