پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے انڈیا بہار میں مسلم خاتون کا حجاب کھینچنے کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق، خواتین کے وقار اور مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے افسوسناک واقعات ناصرف جمہوری اقدار کی نفی ہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کی خطرناک مثال بھی ہیں۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کا کسی خاتون کے مذہبی لباس یا نجی حدود میں مداخلت کرنا سراسر غیر اخلاقی اور قابل مذمت عمل ہے۔ حجاب ہر عورت کا ذاتی اور مذہبی حق ہے جس کا احترام ہر ریاست اور ہر سرکار پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون اور آئین کے محافظ ہوں نہ کہ شہریوں کی تذلیل کا باعث بنیں۔ خرم نواز گنڈاپور نے اس واقعہ کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدات بلکہ مذہبی آزادی اور خواتین کے تحفظ سے متعلق اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ ایسے واقعات عدم برداشت، تعصب اور نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کسی بھی عہدے یا منصب کو انسانی حقوق کی پامالی کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک نے مزید کہا کہ نقاب یا حجاب کسی بھی مسلمان خاتون کی مذہبی شناخت اور ذاتی آزادی کا حصہ ہے، اور اسے زبردستی ہٹانا خاتون کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے واقعات معاشروں میں نفرت، عدم برداشت اور تعصب کو فروغ دیتے ہیں، جن کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرنے والوں کو ایسے واقعات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ مذہبی آزادی، خواتین کے احترام اور انسانی وقار کے اصولوں کو عملی طور پر یقینی بنایا جا سکے





