جون 22, 2026

قاتلانہ حملے میں زخمی بنگلادیشی نوجوان رہنما عثمان ہادی انتقال کر گئے

بنگلادیش کے معروف نوجوان سیاسی رہنما عثمان ہادی قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد انتقال کر گئے۔ عثمان ہادی جولائی میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے اہم رہنما تھے اور طلبہ رہنماؤں کے قائم کردہ سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان بھی تھے۔

عثمان ہادی کو گزشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا تھا۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا اور ان کا آپریشن کیا گیا، تاہم مزید علاج کے لیے انہیں ہفتے کے روز سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گئے۔ عثمان ہادی بنگلادیش کے آئندہ انتخابات میں آزاد حیثیت میں حصہ لینے کے خواہشمند تھے۔

گزشتہ روز سنگاپور کے وزیر خارجہ نے اسپتال میں عثمان ہادی کی عیادت کی اور بنگلادیشی چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ٹیلی فونک گفتگو میں انہیں بتایا کہ عثمان ہادی کی حالت انتہائی نازک ہے۔ بنگلادیشی حکام کے مطابق حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اب تک 14 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ڈھاکا میں عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے کے خلاف مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے بھی احتجاج کیا۔