جون 20, 2026

فلسطینیوں پر مظالم چھپانے کی اسرائیلی کوششیں بے نقاب، کینیڈین اراکینِ پارلیمنٹ کے وفد کو مغربی کنارے میں داخلے سے روک دیا گیا

اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی ہٹ دھرمی بدستور جاری ہے۔ تازہ واقعے میں صیہونی حکومت نے کینیڈا کے اراکینِ پارلیمنٹ پر مشتمل ایک وفد کو مغربی کنارے میں داخلے سے روک دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 6 اراکینِ پارلیمنٹ سمیت 30 رکنی کینیڈین وفد کو اردن کے ایلن بی کراسنگ پر روک لیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے وفد کے تمام ارکان سے ایک متنازع دستاویز پر دستخط کا مطالبہ کیا جس میں انہیں عوامی سلامتی کے لیے خطرہ تسلیم کرنا تھا، تاہم وفد نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا۔

کینیڈین حکام نے اسرائیل کے اس اقدام کو انتہائی تشویشناک اور مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں زمینی حقائق کا آزادانہ مشاہدہ کرنے والوں کی رسائی محدود کرنے کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے۔

وفد میں پاکستانی نژاد کینیڈین اراکینِ پارلیمنٹ اسلم رانا اور اقرا خالد کے علاوہ سمیر زبیری، فارس السعود، گربکس سائنی اور جینی کوان بھی شامل تھے