جون 7, 2026

ڈنگہ میں ریڑھی اور رکشہ مافیا کا راج، انتظامیہ بے بس ، شہری شدید مشکلات کا شکار

ڈنگہ شہر میں مین بازار اور گرد و نواح کے علاقوں میں ریڑھی اور رکشہ مافیا کا قبضہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے جبکہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ مکمل طور پر صورت حال پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ گنجان آبادی والے اس علاقے میں ٹریفک جام، دھواں، شور اور بے ہنگم راستوں نے شہریوں کے لیے روزمرہ زندگی اذیت ناک بنا دی ہے۔

مین بازار، لنک کھاریاں روڈ، حاجی صادق مارکیٹ، راجہ بازار اور حبیب بینک چوک سمیت زیادہ تر مقامات پر غیرقانونی ریڑھیاں اور رکشہ اسٹینڈز نے راستے تقریباً بند کر دیے ہیں۔ دکانداروں اور قریبی محلوں میں رہنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ بازار میں صاف ہوا لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

میلاد چوک سے پل سیم نالا تک جانے والی رابطہ سڑک 8 سے زائد محلوں کے لیے مرکزی گزرگاہ ہے، مگر ریڑھی مافیا، غیرقانونی پارکنگ اور سڑکوں کی کھدائی کے باعث اب یہ راستہ ناقابلِ سفر ہو چکا ہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کا گزر ممکن نہیں رہے گا۔

شہر کی مختلف گلیوں اور رابطہ راستوں پر نالے کھود کر پلیاں تعمیر کرنے کے بجائے کھلے چھوڑ دی گئی ہیں جس کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہے بلکہ ہسپتال تک پہنچنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔

اس کے باوجود ڈسٹرکٹ انتظامیہ، تحصیل انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی توجہ صرف چالان اور رسمی کارروائیوں تک محدود ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مین بازار میں ٹریفک کی اصل صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔

سموگ کی شدت میں خطرناک اضافہ بھی شہریوں کی پریشانیوں کو دوچند کر رہا ہے۔ سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں جبکہ شہر میں آلودگی کی شرح منڈی بہاؤالدین اور گجرات سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

شہریوں نے انتظامیہ پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر گجرات اور اے سی کھاریاں فوٹو سیشن تک محدود ہیں جبکہ اصل مسائل جوں کے توں موجود ہیں، اور اہلِ ڈنگہ بے یار و مددگار حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔