نومبر 2, 2026

جامعہ گجرات کے شعبہ انگریزی کے زیر اہتمام ایک سیمینار”معاصر علمی تحقیق میں لسانیات و ادبیات کی یکجائیت“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا

گجرات(پ۔ر) جامعہ گجرات کے شعبہ انگریزی کے زیر اہتمام ایک سیمینار”معاصر علمی تحقیق میں لسانیات و ادبیات کی یکجائیت“ کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔ سیمینار کے مہمانان اعزاز میں UMT لاہور کے محقق و استاد ڈاکٹر محمد نعمان اور یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے استاد ڈاکٹر اختر عباس شامل تھے۔ میزبانی صدر شعبہ انگریزی ڈاکٹر بہزاد انور نے کی۔ ڈاکٹر رضائے مصطفیٰ نے سیمینار کے منتظم کا فریضہ سرانجام دیا۔طلبہ و اساتذہ کی کثیر تعداد نے سیمینار میں شرکت کرتے ہوئے معاصرعلمی تحقیقی رحجانات میں لسانی و ادبی اختراعات کی آمیزش کے حوالہ سے جدید ٹیکنالوجی کے عہد میں ادب و فن کی ہیئت و اہمیت بارے استفادہ کیا۔ ڈاکٹر محمد نعمان نے کہا کہ انسان جذبات کا مرقع ہے اور ادب جذبات کا ارفع انداز میں اظہار ہے۔عہد جدید میں ٹیکنالو جی کی وسیع پیمانہ پر ایجادات اور عصر حاضر کے انسان کی جانب سے ٹیکنالوجی کا بے پایاں استعمال مختلف سطح پر مؤثر اور واضح تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے۔ موجودہ دور مین ہر چیز دیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہی ہے۔ایسے میں دنیا بھر میں ادبی اظہاریہ کا طریق کار بھی ڈیجیٹائز ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد نعمان نے ادب کو ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے طباعت و اشاعت، فلم و ریل کی صورت میں ادبی فن پاروں کا پھیلاؤ اور جدید پاکستانی ادب کا تذکرہ کرتے ہوئے معاصر علمی تحقیق میں لسانیات و ادب کے یکجا ہونے بارے مختلف ادبی تھیوریوں کا وسیع النظری سے محققانہ جائزہ پیش کیا۔ڈاکٹر اختر عباس نے کہا کہ لسانیات ایک وسیع علم ہے۔انسان کی تہذیبی و سماجی تاریخ کے مختلف ادوار میں ادب و لسانیات کئی انقلابوں اور معرکوں سے دوچار ہو چکے ہیں۔سولہویں صدی میں سائنسی و جغرافیائی دریافتوں اور فزکس کے علم میں بیش بہا اضافہ نے ادب و علم اور علوم و فنون پر گہرا اثر مرتب کیا تھا۔ دور حاضر آرٹیفشیل انٹیلی جنس کا دور ہے۔AIنے ہمیں ایک نئے انقلاب کے دہانہ پر لا کھڑا کیا ہے۔AIلسانیات اور ادب کو بھی نئے احساسات اور اظہاریوں سے روشناس کروانے جا رہی ہے۔ ڈاکٹر بہزاد انور نے خوبصورت انداز میں شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ سیمینار کے اختتام پر طلبہ نے خیال افروز سوالات کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کیا۔