اکتوبر 29, 2026

پاکستان کے خلاف نئی بھارتی فلم؟

تحریر: الیاس محمدحسین

انڈیا کی فلم انڈسٹری کی بنیاد شاید پاکستان دشمنی پر رکھی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ اکثروبیشتر متنارعہ فلمیں بنائی جاتی ہیں یہ ان کے متعصب ذہن کے مطابق پاکستان کے خلاف میڈیا وار کا سب سے مؤثر ہتھیار سمجھاجاتاہے بولی وڈمیں پاکستان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے پر مبنی اتنی فلمیں بنائی جاچکی ہیں کہ گنتی محال ہے اب تازہ ترین ایک فلم میں سندھ پولیس کے ایک بہادر اور جرأت مندشہید افسر چوہدری اسلم پرایک فلم بنائی جارہی ہے جس پر شہیدافسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بھارتی فلم ’دھریندر‘ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے فلم سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا نورین اسلم نے خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی فلم دھریندر میں چوہدری اسلم کے کردار، رحمٰن ڈکیت کو ہیرو دکھانے اور سیاسی جماعت پی پی پی کی مبہم عکاسی کے حوالے پروپیگنڈاکیاگیاہے جو حقائق کے منافی ہے نورین اسلم نے نامناسب ڈائیلاگ پر بھارتی فلم سازوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلم کے ٹریلر میں کہا گیا کہ شیطان اور جن سے پیدا ہونے والے بچے کو چوہدری اسلم کہتے ہیں۔ میرے مطابق اس جملے سے چوہدری کی والدہ کی کردار کشی ہوتی ہے۔ ہم مسلمان ہیں، اسلامی ملک میں رہتے ہیں، ہمارے یہاں شیطان اور جنوں سے عورتوں کے تعلقات نہیں ہوتے، چوہدری کی والدہ پاکیزہ اور نیک خاتون تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اداکار کبھی غلط نہیں ہوتا یہ رائٹر کا کمال ہے، بھارتی رائٹرز نے ہمیشہ پاکستان کو دہشتگرد ملک دکھایا ہے، جبکہ اْس بھارتی کرنل پر خاموشی اختیار کرلی جس نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چوہدری اسلم پر جوا کھیلا ہے۔ چوہدری ہیرو ہے یا وِلن یہ سب کا اپنا اپنا نظریہ ہے مجھے اس سے اختلاف نہیں، آپ ہر ایک کے لئے اچھے نہیں ہوسکتے لیکن چوہدری اسلم ایک عظیم محب وطن تھے جنہوں نے زندگی کی آخری سانسوں تک اپنی مٹی سے وفا کی ہے۔‘ نورین اسلم نے کہا کہ بھارتی فلم میں چوہدری کے کردار کو کیسا دکھایا ہے یہ تو 5 دسمبر کو پتہ چلے گا لیکن اگر انہوں نے چوہدری کے خلاف کوئی پروپیگنڈا کرنے کی کوشکش کی تو میں قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہوں شاید یہ غم رافیل مٹا نہیں، بھارتیوں کی فلم کے ذریعے خود کو تسکین پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی دہشتگرد تنظیم ہے، رحمٰن ڈکیت تو اتنا بڑا دہشت گرد نہیں تھا جتنا بڑا اسے دکھایا گیا۔ چوہدری نے رحمٰن سے بڑے بڑے دہشت گردوں کا انکاؤنٹر کیا ہے، اس کی تو سمجھ آتی ہے لیکن یہ تو بھتہ خور تھا، منشیات میں ملوث تھا، اتنا بڑا تو ڈان نہیں تھا، ایسا کیوں کیا؟ یہ تو وہی (فلم بنانے والے) جانتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’فلم ریلیز ہوگی تو پتہ چلے گا کہ کیا ٹی ٹی پی کا ترجمان سنجے دت کو کال کرتا ہے یا نہیں اور اگر کرتا ہے تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ چوہدری نے کیا کہا تھا وہ تو پوری دنیا جانتی ہے آج بھی وہ کلپ یوٹیوب پر موجود ہے۔‘ مرحوم کی بیوہ نورین اسلم نے بھارتی فلم میں پی پی پی کی مبہم عکاسی پر بلاول بھٹو سے ردعمل کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فلم کے ٹریلر میں ایک جلسہ دکھایا گیا ہے جس میں ایک طرف شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر ہے، ایک طرف عوام ہے اور ایک طرف رحمٰن ڈکیت ہے، اس سے یہ لوگ کیا دیکھانا چاہتے ہی؟ مجھے لگتا ہے کہ اس کے خلاف ترجمان پی پی اور بلاول بھٹو کو بیان دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ پاکستان مخالف بالی ووڈ فلم دھریندر 5 دسمبر کو ریلیز کی جائے گی، جس میں اہم پاکستانی شخصیات کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فلم کی مرکزی کاسٹ میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، اور سنجے دت شامل ہیں۔پاکستان مخالف بالی ووڈ فلم کے خلاف حکومت کوبھی سفارتی سطح پر احتجاج کرکے اس کی نمائش کو رکواناچاہیے اوربھارتی فلمسازوں کوبھی چاہیے کہ وہ حقائق دکھائیں پاکستان دشمنی میں ہر اصول کو تہہ وبالا کرنا انصاف کا خون ہے۔