اکتوبر 30, 2026

ٹریفک پولیس کو آخری موقع دیا جارہا ہے، اگر کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو نیا ادارہ تشکیل دینا پڑے گا: وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور سمیت صوبے بھر میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے 30 روزہ حتمی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب ٹریفک قوانین پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت اجلاس میں جدید ٹریفک مینجمنٹ، روڈ سیفٹی اور نظم و ضبط کے لیے ترتیب دیے گئے جامع منصوبے پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ 60 سال پرانے ٹریفک ایکٹ میں 20 بنیادی اصلاحات شامل کر دی گئی ہیں۔

اجلاس سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ ٹریفک پولیس کو یہ آخری موقع دیا جارہا ہے، اگر کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو نیا ادارہ تشکیل دینا پڑے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شہر کی سڑکوں پر بد نظمی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ریاستی رٹ کو کمزور کرتی ہے، اس لیے ہر شہری کو بلا امتیاز قانون کے تابع لایا جائے گا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مسلسل چالان کی صورت میں گاڑی نیلام کرنے کا نیا قانون نافذ ہوگا، جبکہ سرکاری گاڑیوں کو بھی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔ ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے 30 دن کا ٹارگٹ دیا گیا ہے، جبکہ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ روکنے کے لیے فیصلہ کن کریک ڈاؤن کیا جائے گا جس میں گاڑی مالکان کو چھ ماہ تک قید کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بسوں کی چھت پر سواریاں بٹھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ لاہور کی پانچ ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ شادی ہالز کو باقاعدہ پارکنگ فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر انہیں بند کیا جا سکے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ٹریفک نظام کو مقررہ مدت میں بہتر بنانے کے لیے تمام ادارے مل کر کام کریں اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی نتائج دکھائیں۔