اکتوبر 29, 2026

ہم زندہ دل لاشیں جہاں قبریں بھی رخصتی سے زیادہ ہنسی کا سامان بن گئیں

تحریر: محمد انور بھٹی

ایک وقت ایسا تھا کہ گھر کے دروازے پر کھڑے مہمانوں کی رخصتی میں ایک عجب سا درد بھرا لطف ہوا کرتا تھا۔ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر تارکول ملی زمین پر قدم رکھتے ہی دل کی دھڑکنوں کا ریلا کچھ یوں تیز ہوجاتا تھا جیسے ٹرین کی سیٹی اندر کہیں کوئی پرانا زخمی تار چھیڑ رہی ہو۔ مہمانوں کی روانگی کے لمحے پرانی گھڑی کی مشین کی سوئی کی طرح کھٹاک سے ایک دم خاموش ہو جاتی تھی، بس سیٹی، بھاپ اور ریل کے پہیوں کی ٹھک ٹھک باقی رہ جاتی تھی۔ ٹرین چلتی تو ہاتھ ریل کی رفتار کے ساتھ ہلتے رہتے اور آنکھیں بھیگنے لگتی تھیں۔ گھر واپسی پر ہر کمرے میں ویرانی، ہر دیوار میں گونج، اور ہر برتن سے مہمانوں کی خوشبو آتی تھی۔ دل کے کسی کونے میں یوں لگتا تھا جیسے ابھی ان کا قہقہہ گونج اٹھے گا مگر نہیں وہ تو وہیں پلیٹ فارم پر رک گیا تھا جہاں ہم انہیں چھوڑ آئے تھے۔
بندن میاں کی زبان میں بات کریں تو کہتے ہیں صاحبو اُس زمانے میں جذبات ریل کے کوئلے جیسے تھے جو کالے ضرور ہوتےتھےمگرگرم بہت ہوتے تھے۔ اب تو سب کچھ بجھا پڑا ہے۔ نہ دھواں، نہ سیٹی، نہ وہ دھڑکن جو کسی کے جانے پر تھم جایا کرتی تھی۔ بس جسم چل رہے ہیں، دل کہیں اسٹاپج پر اتر کر بھاگ گئے ہیں۔
زمانہ بدلا پہیے آگے بڑھے اور ہم پیچھے رہتے گئے۔ احساسات ہم سے ویسے ہی چھن گئے جیسے ریلوے کی زمینیں لینڈ مافیا چھین کر لے گئی ہوں۔اب صورت حال یہ ہے کہ لوگ اپنے جیتے جاگتے پیاروں کی رخصتی پر تو کیا، مرے ہوئے عزیزوں کو قبر میں اتارتے ہوئے بھی ویسی سنجیدگی اختیار نہیں کرتے جو کبھی ایک رخصت ہوتے مہمان کے لیے مخصوص ہوا کرتی تھی۔
جنازے کے راستے میں اب وہی رونق ہوتی ہے جو پہلے عید کی نماز کو جاتے ہوئے ہوا کرتی تھی۔ لوگ بے تکلف قہقہوں میں مصروف، جیبوں میں موبائل فون، اور زبانوں پر تازہ لطیفےایسے جیسے موت نے نہیں، کوئی laughter therapy کا پروگرام رکھ لیا ہو۔ قبر کی مٹی میں انسان اتر رہا ہوتا ہے اور اردگرد کھڑے لوگ observations دیتے جاتے ہیں یار اس بار تو مٹی بڑی نرم ہے پچھلی قبر تو کہنی تک کدال مارنی پڑی تھی,کوئی دوسرا جملہ کس دیتا ہے ہاں بھئی قبر تو اچھی بنی ہے بس دھوپ زیادہ ہے۔
بندن میاں سر پکڑ کر کہتے ہیں
او مؤمنویہ قبر ہے یا زرعی زمین کا معائنہ؟ مرنے والا بندہ اُتر رہا ہے یا آپ لوگ سوسائٹی کا پلاٹ چیک کرنے آئے ہیں؟
اب انسان کی قبر نہیں دیکھی جاتی قبر کی مٹی دیکھی جاتی ہے۔مرنے والے کا نصیب نہیں سوچا جاتا اپنے سینڈل میں مٹی جانے کا دکھ زیادہ ہوتا ہے۔انسان کی بے بسی نہیں دیکھی جاتی دھوپ کی تپش زیادہ محسوس ہوتی ہے۔یہی تو ہماری بتدریج موت ہے۔
بندن میاں کی باتیں ہیں تو کڑوی، لیکن ہیں سچی۔ کہتے ہیں
ہم وہ لوگ ہیں جو مرنے والے سے نہیں پوچھتے کہ اسے کیسا لگ رہا ہے مگر سالن گرم ہے یا ٹھنڈا، یہ ضرور دیکھ لیتے ہیں۔
جنازے سے فارغ ہونے کے بعد گھر میں صفِ ماتم نہیں بچھتی صفِ پلیٹیں بچھتی ہیں۔
لوگ پلیٹیں ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوتے ہیں جیسے کسی دعوتِ ولیمہ میں آگئے ہوں۔
پہلا سوال یہی بوٹیاں کتھے نے؟
اگر سالن میں بوٹیاں کم نکل آئیں تو سمجھو مرنے والا بے چارہ آخری بار بھی بدنام ہوگیا۔
اگر چاول زیادہ اور سالن کم ہو تو لوگ صاحبِ خانہ کی تواضع نہیں دیکھتے اس کے انتظامی نقائص گنتے ہیں۔
بندن میاں کہتے ہیں اوئے ہڈ حرامو جس گھر سے جنازہ اٹھا ہے اُس گھر کی ہانڈی پر تبصرہ کرتے ہوئے ذرا مرنے والے کے کفن کی سلوٹیں تو دیکھ لیا کرو۔ کم بختو وہ تو ایک بار پہنے گا، تم تو روز کپڑے بدل لیتے ہو۔
لوگوں کے ہاتھ میں پلیٹیں ہوتی ہیں، ذہن میں تقابل پچھلے مرنے والے کے گھر والا سالن زیادہ اچھا تھانہیں یار اُنہوں نے تو قورمہ بنایا تھا یہ لوگ تو بس چلو خیر ہےکوئی ذرا سوچے کہ جس گھر میں کھڑے ہیں وہاں آج آنسو پکے ہیں، سالن نہیں۔مگر ہم نے جذبات کو اس طرح پکا پکا کر خشک کردیا ہے کہ اب آنسو تبھی نکلتے ہیں جب پیاز تیز کٹ جائے۔ایک وقت تھا کہ مہمانوں کی رخصتی پر پورا گھر سنّاٹے اور سرد سانسوں سے بھر جاتا تھا۔
اب مرنے والے کی رخصتی پر بھی گھر کے دروازے پر کھڑے لوگ اتنی مٹھاس سے قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں جیسے کسی فن فیئر میں داخلے کا ٹکٹ کٹوا کر آئے ہوں۔
بندن میاں کہتے ہیں میں نے تو ایک بندے کو قبر کھودتے کھودتے لطیفہ سناتے دیکھا اور اوپر سے ایک دوسرا بول رہا تھا، یار تیز کھود گرمی لگ رہی ہے بندہ بھی سست ہےکیا یہ سب ہم پہلے بھی کرتے تھے؟ نہیں۔ پہلے مرنے والا اپنی قبر میں اترتا تھا آج انسانیت اترتی ہے۔پہلے لوگ قبر پر کھڑے ہو کر یہ سوچتے تھے کہ اگلی باری ہماری بھی ہےآج لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگلی قبر کس طرف کھودنی ہے اور دھوپ کس جانب کم پڑتی ہے۔
بندن میاں کہتے ہیں ہم زندہ لوگ نہیں زندہ دل لاشیں ہیں۔ جسم حرکت کرتے ہیں، دلوں میں ٹھنڈ ہے۔ زبان کا ذائقہ چٹخارہ دار ہے مگر روح کا ذائقہ کڑوا۔پہلے دل انسان کے اندر ہوتا تھااب فریزر میں رکھا ہوا ہے، وقتاً فوقتاً thaw کر کے استعمال کرلیتے ہیں۔
پہلے لوگ روتے تھے…اب لوگ notifications چیک کرتے ہیں۔پہلے قبر دیکھ کر دل کانپ جاتا تھااب قبر دیکھ کر فون کا کیمرہ آن ہوجاتا ہے کہ کوئی اچھی angle سے تصویر آجائے۔تدفین کے وقت قبرستان میں کھڑے ہو کر بندن میاں نے کہا تھاموت تو آج بھی وہی ہےبَدلے ہم ہیں۔پہلے لوگ مرتے تھےآج انسانیت مرتی ہےروزمسلسل، بغیر وقفے کے۔
بندن میاں نے ایک اور بات کہی مرنے والا کچھ چھوڑ کر جاتا ہے مگر جیتے جاگتے لوگ کچھ نہیں چھوڑتے سوائے بے حسی کے۔ہم جنازے پر جاتے ہیں مگر مرنے والے کی یاد پر نہیں رک پاتے۔ہم قبر دیکھتے ہیں مگر اپنی قبر نہیں دیکھ پاتے۔ہم فاتحہ پڑھتے ہیں مگر دل کی حالت پر فاتحہ نہیں پڑھتے۔ہم دعا کرتے ہیں مگر اپنی بے حسی کے دفن ہونے کی دعا نہیں کرتے۔
بندن میاں کہتے ہیں اگر مستقبل کے قبرستانوں میں لاؤڈ اسپیکر لگا کر مرنے والے اعلان کر سکیں تو شاید یہ کہیں گےاوئے لوگوں میں مر گیا ہوں تم لوگ اپنی پلیٹوں کاحساب رکھنامیں تو اب خدا کے حضور ہوں بوٹیوں کے حضور نہیں یہ سماج، یہ رویے، یہ قہقہے، یہ بے حسی سب ہمارے اندر کی موت ہیں۔ہم جسم کے زندہ مگر دل کے مردہ لوگ ہیں۔ہمارے سینے میں دھڑکن کی جگہ ایک خالی تھالا بجتا ہےجسے تھوڑی سی پلیٹوں کی کھڑکھڑاہٹ اور ہنسی سے بھر دیا جاتا ہے۔آج جو بے حسی ہم کسی اور کے گھر دکھا رہے ہیں کل یہی منظر ہمارے گھر ہوگا۔ہماری قبر پر کھڑے لوگ بھی یہی کہیں گےیار ادھر آنا یہ سالن ٹھنڈا ہے دو بوٹیاں بڑھا دے
اللہ ہمیں زندہ دل انسان بنا دےزندہ جسم کافی نہیں۔