اکتوبر 29, 2026

ایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبے اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے لیے عوامی رابطہ مہم کا اعلان

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبے کے مطالبے اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم چلانے اور عدالتی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کر دیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر ایوان اور عدالتیں انصاف فراہم نہیں کریں گی تو سڑکوں پر جا کر عوام سے براہِ راست بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی پر 17 سال سے جاری قبضہ اب ختم ہونا چاہیے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت نافذ ہے جبکہ صوبہ ایک انتظامی یونٹ ہوتا ہے، جسے آبادی کے بڑھنے کے ساتھ تشکیل دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا صوبہ ایم کیو ایم کا نہیں بلکہ آئین کا تقاضہ ہے، مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی کے ماسٹر پلان کو کرپشن میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جبکہ آئین واضح طور پر بلدیاتی حکومتوں کے قیام اور اختیارات کی منتقلی کی ضمانت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان کے آئینی حقوق ملنے چاہئیں اور خوشی کی بات ہے کہ ایوان میں ایک جماعت کے سوا تمام سیاسی جماعتیں اس مطالبے کی حمایت کر رہی ہیں۔

ایم کیو ایم چیئرمین نے مزید کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل پر ایوان اور عدالت دونوں سے رجوع کریں گے اور ضرورت پڑنے پر عوام کے درمیان جائیں گے۔ ان کے مطابق 26ویں ترمیم کے دوران دیگر جماعتیں وفاق کو بلیک میل کر رہی تھیں جبکہ ایم کیو ایم نے صرف ایک شرط رکھی تھی کہ عوام کو آئینی حق دیا جائے۔

خالد مقبول صدیقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جماعت 18ویں ترمیم پر مکمل عمل درآمد چاہتی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ سندھ میں 100 فیصد ٹیکس دینے والوں کو ایک فیصد اختیار بھی نہیں ملتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی ماں سمجھتے ہیں اور سندھ اسی ماں کا اہم حصہ ہے۔