اکتوبر 30, 2026

سپریم کورٹ اکثر طاقتور کے ساتھ کھڑی رہی ہے، عوام کے ساتھ نہیں، 27ویں آئینی ترمیم پر جسٹس اطہر من اللہ کا چیف جسٹس کو خط

اسلام آباد: مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر اپنے گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، جسٹس اطہر من اللہ نے 8 نومبر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ “سپریم کورٹ اکثر طاقتور کے ساتھ کھڑی رہی ہے، عوام کے ساتھ نہیں۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی عدلیہ کا ناقابلِ معافی جرم تھا، جبکہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کارروائیاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ “بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والا سلوک بھی اسی جبر کے تسلسل کا حصہ ہے ۔ ”جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ “اسلام آباد ہائیکورٹ کو عوامی اعتماد حاصل کرنے پر نشانہ بنایا گیا، بہادر ججز کے خط اور اعتراف سپریم کورٹ کے ضمیر پر بوجھ ہیں۔ ہم سچ جانتے ہیں مگر صرف چائے خانوں میں سرگوشیوں تک محدود ہیں۔”انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ “بیرونی مداخلت اب کوئی راز نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے، جو جج سچ بولتا ہے وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے، اور جو جج نہیں جھکتا، اس کے خلاف احتساب کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔”یاد رہے کہ گزشتہ روز جسٹس منصور علی شاہ کا بھی ایک خط سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “اگر عدلیہ متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے متاثر ہوں گے، مجوزہ آئینی ترمیم پر عدلیہ سے باضابطہ مشاورت کی جائے۔”