جون 26, 2026

امن کے کاغذ، خون کی سیاہی اور رحما کی آنکھ

مدثر اقبال شاکر کے قلم سے

‎تیرہ اکتوبر 2025 کومصر میں ایک اور عالمی معاہدہ ہوا۔ کیمروں کی چمک، مسکراہٹوں کے تبادلے، مصافحوں کی رسم اور امن کے حق میں بڑے بڑے بیانات۔ دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ غزہ کے زخم بھرنے کو ہیں اور اب خون کی جگہ مکالمہ لے گا۔ مگر رحما، جو اپنے کچے صحن میں اخبار کے ادھ موڑ صفحات اور موبائل کی اسکرینوں پر تاریخ بنتی دیکھتا ہے، جانتا ہے کہ امن صرف ان صفحات میں ہوتا ہے جن پر خون کے نشان نہ ہوں۔ غزہ کی مائیں، بچوں کی لاشیں اور تباہ شدہ کیمپ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ معاہدے امن سے نہیں، طاقت کے توازن سے پیدا ہوتے ہیں اور جب تک طاقت کے ترازو میں انصاف کا پلڑا کمزور رہے، امن صرف کاغذ رہتا ہے، حقیقت نہیں۔ امن معاہدے کو ہوئے پینتیس دن بھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ نصیرات کیمپ پر بمباری نے ایک بار پھر ان دعووں کی چادر خون سے رنگ دی۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق صرف چند گھنٹوں میں پینتیس سے زائد شہادتیں ہوئیں، بچوں سمیت۔ امدادی سامان کی راہ بند کر دی گئی، ہسپتال پھر ملبے بنتے گئے، اور دنیا نے حسبِ معمول “تشویش” کا اظہار کر کے فرض ادا کر دیا۔ رحما موبائل اسکرین بند کرتا ہے اور زیرِ لب کہتا ہے
‎”جنگ بندی؟ یہ جنگ بندی نہیں، یہ صرف خون کی گردش روکنے کی ناکام کوشش ہے۔”
‎اس کے خیال میں امن کی پہلی شرط انسان کی حرمت ہے، اور جہاں انسان کی قیمت گولی سے کم ہو جائے، وہاں معاہدے صرف وقتی پٹیاں ہوتے ہیں، علاج نہیں۔
‎غزہ کی رگوں میں بہتا خون، افغانستان کے پہاڑوں سے اٹھتا بارود، اور پاکستان کی شکستہ سیاست تینوں کو سامنے رکھ کر رحما کہتا ہے
‎”یہ دنیا اصل میں امن کے ایجنڈے پر نہیں، اسلحے کے ایجنڈے پر چل رہی ہے۔”
‎افغانستان گزشتہ چار دہائیوں سے بارود کی بھٹی ہے۔ سوویت کے زمانے میں امپورٹڈ جنگ، پھر امریکی قبضے کے بیس سال، پھر اچانک انخلا، پھر خلا، پھر ایک نئی سرد جنگ اور اس بھٹی کی تپش سب سے زیادہ پاکستان کی سرحدوں پر محسوس ہوتی ہے۔ کبھی بارودی سرنگیں، کبھی خودکش حملے، کبھی سرحدی جھڑپیں، کبھی الزامات، کبھی انتقام۔ رحما سمجھتا ہے کہ افغانستان میں بھڑکی آگ کا دھواں ہمیشہ پاکستان کے آسمان کو کالا کرتا ہے، کیونکہ ہم نے دہائیوں تک کسی اور کی جنگ اپنی زمین پر لڑی اور اس کا خمیازہ آج بھی بھگت رہے ہیں۔
‎رحما کہتا ہے
‎”افغانستان کی آگ میں اگر ہم نے اپنی حکمتِ عملی خود نہ بنائی تو یہ شعلے ہماری سانسوں تک پہنچ جائیں گے۔”
‎اک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے لیے افغانستان ایک اسٹریٹجک شطرنج ہے، مگر پاکستان کے لیے یہ مسئلہ خون، سرحد، معیشت، شناخت اور سلامتی کا ہے۔ جب تک اس خطے میں طاقت کے میزائل بات کریں گے، دلیل اور انصاف کی آنکھیں اندھی رہیں گی۔لیکن رحما کے لیے سب سے گہرا زخم غزہ یا افغانستان نہیں وہ زخم پاکستان کی داخلی رگوں میں ہے۔ 13 اکتوبر کا دن، جب تحریکِ لبیک پاکستان کی ریلی ریاستی طاقت سے جا ٹکرائی۔ پولیس کے جوان بھی شہید ہوئے اور عاشقانِ رسول ﷺ بھی۔ رحما اس لمحے ہکا بکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ناموسِ رسالت ﷺ محبت کا سب سے پاک جذبہ ہے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ریاست کی رٹ اور قانون بھی ضروری ہیں مگر اسے سمجھ نہ آیا کہ یہ دونوں محاذ ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑے کیوں کیے گئے؟
‎وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بس اتنا کہہ سکا
‎”یا رسول اللہ ﷺ… یہ آپ کے نام پر نکلنے والوں کے خون کی زد میں یہ سرزمین کب تک نہاتی رہے گی؟”
‎ریاست کا کام تھا کہ وہ مکالمہ کرتی، زخم ٹالتے، جذبات کو سمجھتی، مگر یہاں ہمیشہ یہی ہوا کہ فریقین کے درمیان گفتگو کی جگہ گولہ آگیا اور دلیل کی جگہ لاٹھی۔رحما کہتا ہے
‎”یہ کیسا ملک ہے جہاں مسجد کے مسافر اور قانون کے محافظ ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑے کیے جاتے ہیں؟ شہید ادھر بھی… شہید ادھر بھی… مگر مرنے والا مسلمان اور آنسو بہانے والی ماں ایک ہی ہوتی ہے۔”
‎رحما سمجھتا ہے کہ پاکستان کا اصل زوال معیشت، سیاست یا ادارہ جاتی تنازع نہیں اصل زوال مکالمہ مرنے کا عمل ہے۔
‎کیونکہ جب قومیں مکالمہ کھو دیتی ہیں تو پھر ان کے ہاتھ میں صرف دو راستے بچتے ہیں
‎انتشار… یا خون۔
‎غزہ میں خون بہہ رہا ہے، افغانستان کے پہاڑ دھماکوں کی بازگشت سے خالی نہیں، اور پاکستان اندرونی بے چینی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ مگر رحما کی آنکھ ایک اور حقیقت بھی دیکھتی ہے کہ ہر منظر کے پیچھے اصل جنگ طاقت اور انصاف کی ہے۔ جہاں انصاف نہیں، وہاں امن کاغذ رہتا ہے، معاہدے تماشا بنتے ہیں، اور قومیں اپنی قبریں خود کھودتی ہیں۔
‎وہ نتیجہ نکالتا ہے
‎”امن کی بنیاد انصاف ہے اور انصاف کی بنیاد سننے کی صلاحیت۔”اگر ریاست عوام کو نہ سنے، عوام ریاست کو نہ سمجھیں، مذہبی جذبات اور ریاستی فیصلوں کے درمیان پل نہ بنایا جائے، تو پھر ہم کبھی غزہ سے سبق نہیں سیکھیں گے بلکہ ایک دن خود غزہ بن جائیں گے۔رحما کی فہم کا حاصل یہی ہے
‎غزہ بتا رہا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز کبھی نہیں مرتی
‎افغانستان بتا رہا ہے کہ جنگیں نسلوں کو جلا دیتی ہیں
‎اور پاکستان بتا رہا ہے کہ اندرونی تصادم قوموں کو توڑ دیتا ہےکالم کے آخر میں رحما اپنی ڈائری کی آخری سطر لکھتا ہے”امن کی پہلی شرط انسان کی حرمت ہے۔ جہاں انسان سستا ہو جائے، وہاں معاہدے خواہ دنیا کے نقشے بدل دیں… امن کبھی جنم نہیں لیتا۔”