جون 16, 2026

پاکستان کا سلامتی کونسل سے مسئلہ کشمیر پر مؤثر اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مسئلہ جموں و کشمیر پر عالمی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تمام امن مشنز کی بنیاد سیاسی حل پر ہونی چاہیے۔ مسئلہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی ساکھ کا امتحان ہے کہ آیا وہ بین الاقوامی امن و انصاف کے اصولوں پر عملدرآمد کر پاتی ہے یا نہیں۔پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سیاسی حل کی ضرورت بالکل واضح ہے کیونکہ مسئلہ جموں و کشمیر طویل عرصے سے اس کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ سلامتی کونسل کو اپنی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اس تنازع کا منصفانہ اور دیرپا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے قدیم ترین مشنوں میں سے ایک کی میزبانی کر رہا ہے اور یہ خود اس مسئلے کے حل نہ ہونے کا بین الاقوامی ثبوت ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب تک 4 براعظموں میں 48 اقوام متحدہ امن مشنز میں 2 لاکھ 35ہزار سے زائد فوجی بھیج چکا ہے، جن میں سے 182 اہلکاروں نے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔پاکستان مندوب نے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کو "کرسمس ٹری” طرز کی بھاری مینڈیٹ سازی سے گریز کرنا چاہیے، جو زمینی حقائق سے ہٹ کر ہوتی ہے