پنڈدادنخان (گوہروقاص پراچہ)ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں کرپشن عروج پر سیالکوٹ سر فہرست، حکومت کا تماشائی بننا افسوسناک ہے، کرپشن کا نیاء انداز متعارف کروا دیا گیا اب پاسپورٹ وصول کر نے کی بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنطیم یوتھ اسمبلی فار ہیومن رائٹس پاکستان کے مرکزی صدر بابر سلہری نے ملک میں غریب عوام کی بے تحاشا شکایات کو مد نظر رکھتے ہوئے میڈیا کو بیان اپنا جاری کر تے ہوئے بتایا ہے کے ملک بھر میں پاسپورٹ دفاتر میں کر پشن عروج پر ہے رشوت دئیے بغیر عام آدمی کا پاسپورٹ بنانا بہت مشکل ہوچکا ہے۔ گیٹ پر کھڑے ایجنٹ کو رشوت دینے والے کے لیے کوئی لائن نہیں اور غریب آدمی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔ پاسپورٹ دفاتر کے ملازمین عام آدمی کے ساتھ انتہائی بد تمیزی اور غیر اخلاقی رویہ اختیار کر تے ہیں۔ اب دفاتر پاسپورٹ دینے کی بھی رشوت وصول کرتے ہیں۔ کئی مہینے پاسپورٹ دفتر میں ہی رکھ دیا جاتا ہے اور ایجنٹ کے ذریعے پاسپورٹ کے مالک کے ساتھ سودا کیا جاتا ہے پاسپورٹ دینے کے پانچ سے دس ہزار روپے رشوت عام سی بات ہے۔ سیالکوٹ،گجرانوالہ، لاہور،راولپنڈی بھاولپور، ملتان جیسے شہروں کے پاسپورٹ دفاتر کرپشن می۔ سہرفرست ہیں اور دوسرے صوبوں میں بھی بہت برا حال ہے۔ پاسپورٹ دفاتر کے ملازمیں ہر روز لاکھوں روپے کی کرپشن کر تے اور آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ حکومت کو چاہے کے پاسپورٹ بننے تک عوام کو تمام انفارمیشن مہیا کی جائے۔ لیکن اعلیٰ سطح تک افسران کر پشن میں ملوث ہے۔ جس وجہ سے حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے لوگوں کے حق پے سرعام ڈاکہ ڈالا جا رہا انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک میں سزاو جزا کا نظام متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شکایت سیل بری طرح ناکام ہوچکاہے۔





