تحریر: ڈاکٹر انصر فاروق مغل
قارئین گذشتہ دو ماہ سے تھصیل کھاریاں حلقہ این اے 62 کے علاقہ گلیانہ میں سیلابی پانی داخلہ ہوا۔ جس کی دہائی میڈیا نے ہر پلیٹ فارم پر دی مگر شہر اقتدار والوں کے نمائندہ گان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اور وہ صرف اور صرف تخت گجرات کی سڑکوں کو ہی بچانے پر لگے رہے اور گلیانہ کے باسیوں کو کوئی اہمیت ہی نہ دی۔ بس ایک ذرا سے کاروائی کی اواے سی کھاریاں تشریف لائے اور فوٹو سیشن کروانے کے بعد کہا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔ پھر دوسری بار تشریف آواری ہوئی اور فرمان جاری ہوا کہ بارش کے بعد اس مسئلے کا حل کیا جائے گا۔ مقامی لوگوں اپنی مدد آپ کے تحت کام کیا۔چند لوگوں کی تعمیرات میں سے راستہ بنایا پانی کی نکاسی کا مگر پانی سارے گلیانہ میں داخل ہوگیا۔اور نشیبی مکانات جو کہ پہلے ہی زیر آب تھے۔ گاؤں میں رہا ئشی مکانات بھی زیر آب آگئے۔ گلیانہ سے کوٹلہ بھمبر آزاد کشمیر اور گلیانہ سے ٹھوٹھہ رائے بہادر بھمبر آزادکشمیر جانے والی شاہرہ زیر آب آنے کی وجہ سے لوگ پریشانی کا شکار ہوگئے، کیونکہ اکثریتی گاڑیاں پانی میں بند ہوجاتی تھیں۔ یوں لاہور۔ اسلام آباد جانے والوں کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح بھگوال۔ دہم۔ چک بختاور وغیرہ کے گاؤں کا راستہ بھی بند ہوگیا۔ اور گلیانہ یونین کونسل کے دفتر اور اس کے آس پاس موجود آبادی کا زمینی راستہ بھی مکمل بطور پر کٹا گیا۔ دو تعلمی ادارے مکمل طور پر بند کرنے پڑھے۔ جس سے بچوں کا تعلیمی نقصان ہوا۔ ریسکیو 1122والوں نشیبی علاقوں میں موجود فیملیز کو باہر نکالا مگر گھر کے سربراہ مرد حضرات نے نکلنے سے انکار کردیا کہ ہم اپنے گھر اور مال مویشی کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ گلیانہ کے نوجوان اور گلیانہ ویلفیئر فورم نے اپنی مدد آپ کے تحت بلالی بھٹی شہید روڈ والے نالے کی صفائی کروائی۔ کیونکہ سیلابی پانی کو بھمبر نالے تک پہنچانے کو اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس کا پانی کا بہاؤ تیزہوا اور پہلے سے کافی حد تک پانی کی سطح میں کمی ہوئی۔ پھر ان نوجوانوں نے گلیانہ گاؤں کے اندر گلیانہ چوک سے قینچی چوک تک راستہ کی نشاہدہی کے بورڈ لگائے۔ تاکہ سکول کالجز اور دیگر دفاتر میں جانے والوں کو متبادل راستہ مل جائے۔ اس لہذا سے سارے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے رویہ کی حسب معمول ایک جھلک کی یاد تازہ کرواتا چلوں۔ چند سال پہلے گاؤں دادبرسالہ میں بھمبر نالے نے کٹاؤ شروع کیا۔ اور میڈیا نے سوئی ہوئی ضلعی انتظامیہ کو جگانے کی کوشش کی مگر اس وقت کی انتظامیہ میں یہ کہا کہ یہ کام محکمہ انہار کا ہمارا نہیں جب محکمہ انہار والے تشریف لائے تو انھوں فرمایا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔ اوتر پھر ہم پہلے لاہور سے اجازت لیں گے پھر کام کریں۔ قصہ مختصر ان کی اسی غفلت کی وجہ سے کئی مکانات سیلابی نالے کی نذر ہوگئے اور اس کے ساتھ بچوں کا گورنمنٹ کا ایک سکول بھی جس کی باقیات ابھی بھی موجود ہیں۔ بھلا اس وقت چوہدری محمد تنویر کا انھوں نے اپنے طور پر باکٹیں منگوا کر اس نالے کا کٹاؤ کم کرنے کے لئے ایک بند تعمیر کرنے کی بھرپور جدوجہد کی مگر سیلابی پانی کی طغیانی کسی بند کو خاطر میں لاتی ہے جب مالی نقصان ہوچکا تو ضلعی انتظامیہ کی آنکھ کھلی اور پھر سب نے دورہ پر دورہ دے دورہ شروع کردیا مگر سب لاحاصل جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ بلکہ ایسی ہی صورت حال گلیانہ میں بھی ہے۔ مگر ارباب اختیار کی تما م تر توجہ صرف اور صرف تخت گجرات پر ہر مرکوز ہیں۔ جہاں انھوں نے 20 موٹریں گجرات سے

سیلابی پانی کی نکاسی کے لگائیں وہی سے صرف 2 موٹر یں ہی گلیانہ والوں کو دے دی جاتیں تو شاید جو لوگ کا مالی نقصان ہوا۔ ان کے مکانات گر گئے ہیں۔ وہ شاید نہ ہونے برابر ہوتا۔ اوع یہاں ہی بات نہیں رکی بلکہ تین قبرستانوں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے قبریں بھی بیٹھ چکی ہیں۔ بقول شاعر(مر بھی جو چین نہ پایا تو کدھے جائیں گے)۔ اور میں سمجھتا ہوں (ہوسکتا ہے میری بات غلط بھی ہو)کہ اس آفت کی گھڑی میں اہلیان گلیانہ پر یہ خاص کرم رہا اس دروان کوئی فرد فوت نہیں ہوا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوجائے تاحال بھی تو جن قبرستانوں میں پانی کھڑا ہے ان میں قبر نکالنا کے لئے پانی کی وجہ سے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مگر ہماری ضلعی انتظامیہ تما م تر احساسات عاری ہوکر صرف اپنی نوکری سیدھی کرنے اور تخت گجرات والوں کو خوش کرنے میں مصروف ہے۔ اور انھوں نے اس بات کو بھی بھلا رکھا ہے کہ حقوق العباد بھی کسی چڑیا کا نام ہے۔کل بروز قیامت ان سب ذمہ داران کے گریبان گلیانہ نے ان سب باسیوں کے ہاتھوں میں ہوں جو ان کی وجہ سے اس مصیبت میں مبتلا ہیں۔ اور حلقہ این اے 62 کے منتخب ایم این اے صاحب جب پانی سر سے گز ر گیا تو تشریف لائے اور فوٹو بنوا کر شہیدوں میں نام لکھو ا کر چل دئیے۔ تحت گجرات کے ذمہ دارو بارش رکنے کے بعد تم کچھ کرو نہ کرو اس سے ان لوگوں کو کیا غرض۔ وہ بارشوں کے بعد تو اس تمام مصائب سے خود ہی چھٹکار ا حاصل کر لیں گے۔ بات وہی ہوگئی۔ ایک مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے بڑی نازک صورت حال تھی۔ ڈاکٹر نے کہا ایمرجنسی میں لے جاؤ میں بس فری ہوکر آرہا ہوں۔ لواحقین باہر باہر ڈاکٹر کے پاس آتے مگر ڈاکٹر افسران کی خوشامد اور اپنی نوکری سیدھی کرنے میں لگاتھا۔ جب ڈاکٹر کی نوکری سیدھی ہوگئی تو اس نے اپنے چپڑاسی کو بلا کر پوچھا میاں یہ بار بار کون لوگ تھے جو مجھے آکر تنگ کررہے تھے۔ جب اس نے ساری صورت احوال سے آگا ہ کیا تو وہ فوراً ایمرجنسی کی طرف لپکا مگر سب لاحاصل وہ گھر کا واحد کفیل اس درافانی سے کوچ کرچکا اور اس کی ڈیڈ باڈی ایمبولینس میں رکھی جارہی تھی۔اور اس کے گھر کی تمام خواتین اس بے حس ڈاکٹر جس کو مسیحا سمجھ کر اس کے پاس آئے تھے۔ وہ ان کے گھر کے واحد سہارے لا قاتل بن گیا۔ اور کبھی وہ ڈاکٹر کو کبھی اللہ کریم کو پکار رہی تھیں۔ محترمہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ۔ تخت گجرات کے لئے ڈیوٹی دینے والوں کو بتائیں کہ گلیانہ والے بھی اسی صوبے۔ اسی ضلعے اسی تحصیل کے باسی ہیں۔ اور یہ لوگ بھی تمام تر ٹیکس دینے والوں میں شامل ہیں۔ تخت گجرات کی نوکری سے باہر نکلیں اورع ان لوگوں کی طرف بھی توجہ کریں





