برطانیہ میں عام انتخابات کے نتاِئج کے مطابق لیبر پارٹی نے فتح حاصل کر لی ہے، جس کے بعد سر کیئر سٹامر ملک کے اگلے وزیراعظم ہوں گے۔لیبر پارٹی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر برطانیہ کے عام انتخابات میں کامیاب ہو گئی ہے۔وسطی لندن میں خطاب کرتے ہوئے ملک کے اگلے وزیر اعظم کیئر سٹامر نے کہا کہ ’تبدیلی کا آغاز ہو رہا ہے۔‘سر سٹامر کے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’سچ بولوں تو مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘اس سے قبل اپنے حلقے میں جیت کے بعد تقریر کرتے ہوئے کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے لیے کارکردگی دکھانے کا وقت ہے۔‘دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم رشی سونک نے عام انتخابات میں شکست قبول کرلی ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’لیبر پارٹی یہ عام انتخابات جیت چکی ہے اور میں نے سر کیئر سٹامر کو فون کر کے انھیں مبارک باد دے دی ہے۔‘’میں اس شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔‘اب تک 650 میں سے لیبر پارٹی 412 نشستیں حاصل کر چکی ہے جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو اب تک صرف 121 نشستیں ملی ہیں اور یہ تاریخی طور پر ان کی عام انتخابات میں اب تک کی بدترین شکست ہے۔سکاٹش نیشنل پارٹی کے رہنما سٹیفن فلن نے انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کو ’سٹامر سونامی بہا لے گیا ہے۔‘انھوں مزید کہا کہ ان کے ساتھی ’سکاٹ لینڈ بھر میں اپنی نشستیں ہار رہے ہیں۔‘تاہم سٹیفن فلن 15 ہزار 213 ووٹوں کے ساتھ اپنی نشست جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کے مخالف امیدوار نے 11 ہزار 455 ووٹ حاصل کیے۔اس سے قبل بی بی سی نے پیشگوئی کی تھی کہ لیبر پارٹی کو دیگر جماعتوں پر 160 سے زائد سیٹوں کی برتری حاصل ہو گی۔بی بی سی نے پیشگوئی کی تھی کہ کنزرویٹو پارٹی کو عام انتخابات میں 154 نشستیں مل سکتی ہیں۔واضح رہے کہ یہ ایگزٹ پول انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز کے تقریباً 130 پولنگ سٹیشنوں کے ووٹروں کے ڈیٹا پر مبنی تھے۔ اس پول میں شمالی آئرلینڈ کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ پچھلے پانچ عام انتخابات کے دوران ایگزٹ پول بڑے پیمانے پر درست ثابت ہوئے تھے۔دوسری جانب لبرل ڈیموکریٹس کا 56 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر آنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ سکاٹش نیشنل پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی تعداد کم ہو کر 10 تک محدود ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا جبکہ ریفارم یو کے پارٹی کو 13 سیٹیں ملنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔





