اپریل 20, 2026

مذاکرات ہی تمام مسائل کا حل ہیں:قمر زمان کائرہ

لالہ موسیٰ()پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی راہنماء قمرزمان کائرہ نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے بجٹ اجلاس کابائیکاٹ نہیں کیااور یہ جوتاثر ہے کہ بجٹ کے موقع پر پیپلزپارٹی نے جن تحفظات کااظہار کیاہے شائدپیپلزپارٹی نے اس موقع سے فائدہ اٹھایاہے،ہم نے دباؤ ڈالاہے اور ہم نے حکومت کو مجبور کیاہے قطعاً ایسی کوئی بات نہیں ہے،ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈیرہ کائرہ پر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا،انہوں نے حکومت سازی میں جب مختلف جماعتیں مل کر حکومت بناتی ہیں تو وہ اپنے کچھ اصول طے کرتی ہیں،ہرجماعت کی خواہش تو ہوتی ہے کہ اسکی اپنی حکومت بنے لیکن اگر اپنی اکثریت نہ ہوتومل کر حکومتیں بناناپڑتاہے،اس کیلئے جماعتیں ہمیشہ پہلے بیٹھ کر طے کرتی ہیں،ہم نے بھی حکومت بناتے ہوئے یہ طے کیاتھاکہ ہم وزارتوں میں نہیں آئیں گے لیکن مختلف لیول پر ہم آپ کے ساتھ کیسے تعاون کریں گے اور ہم آپ کے ساتھ کیاتعاون کریں گے،وہ ایک تحریری معاہدہ تھااس پر عملدرآمدکیلئے کچھ چیزوں پر ہمارے تحفظات تھے،اس کیلئے جماعت نے فیصلہ کیا،ہم نے پہلے بھی انفارم کیاتھالیکن اس پرعملدرآمد نہ ہوپایا،ہمیں کسی کی نیت پر قطعاً کوئی شک نہیں لیکن جب اس پر عملدرآمد نہیں ہوپایاتوپھر پارلیمانی پارٹی کے اندر چیئرمین بلاول بھٹو اور ساری جماعت نے کہاکہ ہمیں پروسیڈنگ میں نہیں جاناچاہئے،ہم بائیکاٹ نہیں کررہے ہمارے سینئر لوگ اس میں گئے بھی تھے لیکن اس کے بعد وزیراعظم اور چیئرمین پیپلزپارٹی اور ہماری کمیٹیوں کی میٹینگز ہوئی ہیں جس سے معاملات بہتر ہوگئے ہیں مزیدجورہتے ہیں وہ بھی ہوجائیں گے،انہوں نے کہاکہ بہت زیادہ اچھاہوتاکہ یہ موقع ہی نہ آتالیکن مختلف خیال جماعتیں ہوتی ہیں کبھی کبھی ایسے مسئلے نکل آتے ہیں جن کاحل نکال لیا جاتا ہے،انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں بیٹھ کر مسائل پیداہوتے ہیں اختلافات بننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کاحل نکال لیاجاتا ہے اور ہم نے حل نکال دیاہے آئندہ بھی اس طرح کی چیزیں ہوسکتی ہیں کوشش تو کرنی چاہئے کہ ایسا نہ ہولیکن اگر ہوبھی آپ کے اندر ایسا ویژن ہوناچاہئے کہ بیٹھ کر اس کاحل نکالا جاسکے،انہوں نے کہاکہ ہمیں بھی اورمسلم لیگ(ن) کو بھی بخوبی اس بات کاادراک ہے کہ اس وقت ملک کوگھمبیر مشکلات کاسامناہے ان سے ملک کو نکالنے کیلئے ہم سب کو مل کر حکومت چلانا،فیصلے کرنا،پاکستان کو مشکلات سے نکالنایہ ایک دوسرے سے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا،یہی بات ہم پی ٹی آئی اور عمران خان کو کہتے تھے ہمیشہ کہتے رہے ہیں آج بھی کہہ رہے ہیں لیکن ان کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی جلدیابدیرجب بھی ان کی سمجھ آئے گی تو یہی واحدراستہ ہے جس پرچلناپڑتاہے۔