اپریل 19, 2026

کھاریاں شہر کے خادم اعلیٰ اور عظیم سماجی ورکر ”محمد حنیف بٹ“

انتخاب: قاری نصیر احمد کلیار

کھاریاں شہر کے خادم اعلیٰ اور ایک عظیم سماجی ورکر لیکن خودنمائی سے کوسوں دور،نیشنل بینک کھاریاں میں 40 سالہ ملازمت کے دوران اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر لاتعداد شہریوں کی زندگیوں میں اجالے بانٹے لیکن یہ بے لوث خدمت تشہیر اور فوٹو سیشن سے ہمیشہ پاک رہی۔موصوف ” محمد حنیف بٹ ” نے عوامی خدمت کے اس سلسلے میں متعدد شہریوں کی مالی و اخلاقی ہر طرح کی معاونت کی، خواہ وہ سرکاری لین دین ہو، سائلین کے سرکاری قرضوں کی ادائیگی میں رکاوٹ ہو، شہریوں کا گارنٹڈ بننا ہو، قانونی معاملات ہوں مختصر یہ کہ دیانتداری کیساتھ عوامی خدمت میں سرگرم رہے۔محمد حنیف بٹ نے اس سلسلے میں شہریوں اور سرکاری ملازمین کے درمیان فاصلوں کو بھی کافی حد تک کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، شہریوں کی بینک کے متعلقہ اکثر شکایات و اختلافات کو خوش اسلوبی حل کرتے۔موصوف کی زندگی جھوٹ سے بلکل پاک تھی لیکن کچھ لوگ انکی سادہ طبعیت اور انکی مقبولیت سے خائف تھے، اسی سلسلہ میں انکے ایک بیان کے مطابق ایک دفعہ کسی غیر معمولی وجہ کہ بنیاد پر انکی سرکاری نوکری داؤ پر لگ گئی مگر اُس وقت بھی موصوف حنیف بٹ نے جھوٹ کا سہارا لینے کے بجائے صداقت کا رستہ اختیار کیا اور اللہ کی ذات نے نہ صرف انہیں سرخرو کیا بلکہ مزید عزتوں سے بھی نوازا۔عوامی خدمت کے اس بے لوث سفر میں انہوں نے نہ اپنی صحت کی پرواہ کی نہ مال اور نہ اولاد کی بلکہ عوامی خدمت کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔ خدمت کے اس عظیم مشن میں نہ صرف انہوں نے اپنی سرکاری توانائیوں کو استعمال میں لایا بلکہ سیاسی طور پر بھی شہریوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتے رہے۔بینک کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ اور زوجہ (سابقہ کونسلر) کی اچانک وفات کے بعد شوگر اور بلڈ پریشر نے انکی صحت کافی حد تک کمزور کردی، لیکن پھر بھی شہریوں کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کرتے رہے۔75 سالہ ضعیف شخص، بدن میں کمزوری مگر مرد مجاہد کے چہرے پر آج بھی پُر اطمینان اور سادہ سی مسکراہٹ برقرار ہے۔کم و بیش 50 سال تک شہریوں کی زندگیوں میں روشنیاں بانٹنے والا یہ دِیا آج بجھنے کے بالکل قریب ہے، اللہ پاک سے دعا ہے انہیں صحت دے اور مستقبل میں اس مرتبے پر فائز کرے کہ جسکا اللہ نے قرآن پاک میں وعدہ کیا ہے۔(تحریر:جنید ڈار)