ڈنگہ ( زمان اسلم ) مرکزی راہنما پاکستان پیپلز پارٹی، سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے کہا تھے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا ہے۔ اب عدالت عظمی نے بھی اس پر مہر ثبت کر دی ہے۔ مجھے اب تک سمجھ نہیں آئی کہ میں اس فیصلہ پر خوشی کا اظہار کروں یا پھر افسوس کا کیونکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے ملک و قوم کا جو نقصان ہوا وہ کیسے پورا ہو گا ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے صرف 4 سال کی قلیل مدت میں سقوط ڈھاکہ سے معاشی طور پر تباہ حال ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور سوڈان تنزانیہ لیبیا اور مصر سے لے کر ترکی ایران افغانستان انڈونیشیا میشیاء اور پھر کویت سعودی عرب قطر یواے ای سے لے کر فلسطین تک امت کے تمام ممالک کو متحد کر کے ایک امت کی شکل میں تبدیل کر دیا ۔ پاکستان کے شہر لاہور میں ساری مسلم دنیا کے سربراہوں نے شاہی مسجد میں ایک امام کے پیچھے اکٹھے نماز ادا کی ۔ فیصل آباد سے کراچی تک صنعت کاری کے نئے دور نے جنم لیا ۔ شراب نوشی، منشیات فروشی کے مھکے بند کر دیئے ۔ چھوٹے چھوٹے دیہات سے لاکھوں مزدوروں اور غریبوں کو ملازمت کے لئے مڈل ایسٹ سے ترکی تک وہاں بھیجا جس نے ملک میں عام شہری کی زندگی بدل کر رکھ دی ۔ مفت تعلیم سے نئی نسل کی اعلیٰ تعلیم کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ پاکستان کو بڑی طاقت دشمن پڑوسی سے ہمیشہ کے لئے ناقابل شکست بنانے کے لئے اس وطن کو ایٹمی قوت بنایا اور سب سے بڑی بات کہ عقیدہ ختم نبوت کو ہمیشہ کے لئے حل کر کے اس کا راستہ روک دیا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر بھٹو شہید کو 5 سال اور مل جاتے تو آج وطن کسی اور نیچ پر ہوتا مگر عالمی قوتوں نے وطن والوں سے مل کر اس ملک کو اس عظیم راہنما سے ہمیشہکے لئے محروم کر دیا ۔ لیکن وہ اتنی عظمت کےباعث آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔




