از قلم : فیصل جنجوعہ
ہمارے معاشرے میں والدین کی ایک بڑی تعداد بچوں کے لیے بہترین لباس، مہنگے موبائل فون، جدید تعلیمی سہولیات اور آسائشوں کا انتظام تو کر دیتی ہے، مگر ان کے کردار، اخلاق، گفتگو، برداشت اور رویّوں کی نگرانی کو غیر ضروری سمجھتی ہے۔ والدین یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے صرف ان کی باتیں نہیں سنتے، بلکہ ان کے اعمال، عادات اور طرزِ زندگی سے بھی سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں جھوٹ، بدزبانی، غصہ، عدم برداشت اور دوسروں کی تضحیک عام ہو تو بچوں سے سچائی، شائستگی اور احترام کی توقع رکھنا محض خوش فہمی ہے۔ بچے کی تربیت صرف اسکول کی ذمہ داری قرار دینا والدین کی اپنی ذمہ داری سے فرار کے مترادف ہے۔ اسکول علم، نظم و ضبط، اجتماعی زندگی اور اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن چند گھنٹوں کی تدریس اس تربیت کا متبادل نہیں بن سکتی جو بچے کو گھر میں چوبیس گھنٹے ملتی ہے موبائل نے وقت چھینا، نگرانی نے آنکھیں بند رکھیں! نوجوان نسل کے بگاڑ میں غیر ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال، نامناسب مواد، بے مقصد ویڈیوز اور دکھاوے کی ثقافت کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کہ بعض والدین بچوں کو خاموش رکھنے کے لیے ان کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتے ہیں اور پھر یہ جاننے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں، کس سے رابطے میں ہیں اور کن خیالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بچے کے ہاتھ میں جدید ٹیکنالوجی موجود ہے مگر اس کے استعمال کی تربیت نہیں، تو قصور ٹیکنالوجی کا ہے یا اس بالغ انسان کا جس نے رہنمائی کی ذمہ داری پوری نہیں کی؟ موبائل بذاتِ خود مسئلہ نہیں؛ اصل مسئلہ بے لگام استعمال، کمزور نگرانی اور تربیتی غفلت ہے۔ تعلیمی ادارے بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں! تعلیمی اداروں کو بھی محض اچھے نتائج، بلند نمبروں، نمایاں تشہیر اور داخلوں کی تعداد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی اسکول بہترین نمبر لینے والے طلبہ تو پیدا کرے لیکن ان میں سچ بولنے، بڑوں کا احترام کرنے، اختلاف برداشت کرنے، قانون کی پابندی کرنے اور دوسروں کے حقوق تسلیم کرنے کی صلاحیت پیدا نہ کر سکے تو اس کی تعلیمی کامیابی نامکمل ہے۔ اساتذہ کا احترام، نظم و ضبط، کردار سازی اور اخلاقی تربیت تعلیم کے بنیادی ستون ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ استاد کی اصلاحی کوشش اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب والدین اس کا ساتھ دیں۔ اگر بچہ گھر جا کر استاد کی ہر نصیحت کا مذاق اڑائے اور والدین تحقیق کے بغیر بچے کی ہر بات کو درست مان لیں تو تربیت کا پورا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ تعلیم صرف ذہن کو روشن کرنے کا نام نہیں، کردار کو سنوارنے کا عمل بھی ہے۔والدین کی بے جا محبت یا مستقبل سے ناانصافی؟ ہمارے ہاں بعض والدین بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے کو محبت سمجھتے ہیں۔ غلطی پر روکنا انہیں ناگوار گزرتا ہے، تنبیہ کو سختی اور نظم و ضبط کو پابندی سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ اپنی خواہش کو حق، اپنی ضد کو اصول اور اپنی غلطی کو دوسروں کی زیادتی سمجھنے لگتا ہے۔ جو بچہ گھر میں اپنی غلطی تسلیم کرنا نہیں سیکھتا، وہ عملی زندگی میں اپنی ناکامی کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کرتا۔ جو بچہ بچپن میں حدود کا احترام نہیں سیکھتا، وہ جوانی میں دوسروں کے حقوق پامال کرنے کو بھی معمولی سمجھ سکتا ہے۔ بچوں سے محبت ضرور کریں، لیکن ایسی محبت نہیں جو ان کی اصلاح کا راستہ بند کر دے۔ بے جا لاڈ وقتی خوشی دے سکتا ہے، مگر مضبوط کردار نہیں بنا سکتا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نوجوانوں سے اعلیٰ اخلاق کی توقع تو رکھتے ہیں، مگر خود اپنے رویّوں پر غور نہیں کرتے۔ ہم بچوں کو جھوٹ سے منع کرتے ہیں مگر اپنے فائدے کے لیے جھوٹ بول لیتے ہیں۔ ہم انہیں احترام سکھاتے ہیں مگر اختلاف کرنے والے کی تذلیل کرتے ہیں۔ ہم قانون کی پابندی کا درس دیتے ہیں مگر معمولی فائدے کے لیے اصول توڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئی نسل ہمارے الفاظ سے سیکھے گی یا ہمارے کردار سے؟ معاشرہ محض نصیحتوں سے نہیں بدلتا؛ تبدیلی کے لیے عملی نمونہ ضروری ہوتا ہے۔ اگر بڑوں کے قول و فعل میں تضاد ہو تو نوجوانوں سے اخلاقی استقامت کی امید کمزور پڑ جاتی ہے نوجوان نسل کی اصلاح کے لیے والدین کو بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی بات سننا، ان کی سرگرمیوں پر مناسب نظر رکھنا اور اپنے کردار سے اچھی مثال قائم کرنا ہوگی۔ تعلیمی اداروں کو اخلاقی تربیت، مشاورت اور نظم و ضبط کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ اساتذہ کو شفقت اور اصول پسندی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا، جبکہ معاشرے کو سوشل میڈیا، گفتگو اور اجتماعی رویّوں میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بچوں کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ کیا غلط ہے؛ انہیں یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ درست راستہ کیوں ضروری ہے، غلطی کے نتائج کیا ہوتے ہیں اور اختلاف کے باوجود دوسروں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔ نوجوان نسل ہمارا مستقبل ہی نہیں، ہمارا آئینہ بھی ہے. اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نوجوان نسل پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں۔ ہر بگڑے ہوئے رویّے کا الزام صرف والدین، صرف اساتذہ، صرف اسکول یا صرف معاشرے پر ڈال دینا مسئلے کا حل نہیں۔ تربیت ایک مشترکہ ذمہ داری ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فریق اپنی ذمہ داری دوسرے پر منتقل کر دے۔ والدین کو اپنی غفلت کا اعتراف کرنا ہوگا، تعلیمی اداروں کو اپنے کردار پر نظرثانی کرنا ہوگی اور معاشرے کو اپنے دوہرے معیار ترک کرنا ہوں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل کی نسل بااخلاق، ذمہ دار، باکردار اور باشعور ہو تو آج ہمیں اپنے رویّے درست کرنا ہوں گے۔ کیونکہ نوجوان نسل کی تربیت تقریروں سے نہیں، عملی مثالوں، مسلسل رہنمائی اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس سے ہوتی ہے۔ ورنہ کل ہم ایک بار پھر یہی سوال اٹھائیں گے کہ نوجوان نسل کی تربیت کا ذمہ دار کون ہے، جبکہ جواب ہمارے اپنے اعمال میں موجود ہوگا۔





