از قلم : فیصل جنجوعہ
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں گھروں میں کتابیں خاموش اور موبائل اسکرینیں مصروف ہیں۔ الماریوں میں کتابیں دھول کھا رہی ہیں جبکہ بچوں اور بڑوں کی انگلیاں گھنٹوں اسکرولنگ میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو علم دے رہے ہیں یا صرف معلومات کے ہجوم میں دھکیل رہے ہیں؟ کتاب پڑھنے کے لیے توجہ، صبر اور سوچ درکار ہوتی ہے، جبکہ موبائل چند سیکنڈ میں ایک نئی تصویر، نئی ویڈیو اور نئی سنسنی فراہم کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نئی نسل مختصر مواد کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔ مکمل مضمون پڑھنا مشکل، طویل گفتگو سننا مشکل اور کسی ایک موضوع پر گہرائی سے سوچنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض والدین بچوں کے ہاتھ میں موبائل دے کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ بچہ مصروف ہے۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ بچے کا ذہن کس چیز سے تشکیل پا رہا ہے۔ ہم بچوں کو مہنگے موبائل، تیز انٹرنیٹ اور جدید سہولیات تو دے رہے ہیں، مگر کتاب سے تعلق قائم نہیں کر رہے۔ اسکولوں میں بھی لائبریریاں موجود ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ وہاں کتنے بچے باقاعدگی سے کتاب پڑھتے ہیں؟ ہم امتحان کے لیے صفحات یاد کرواتے ہیں، مگر زندگی سمجھنے کے لیے کتاب پڑھنے کی عادت پیدا نہیں کرتے۔ ہم نمبروں کو کامیابی کا پیمانہ بنا دیتے ہیں، لیکن مطالعہ، کردار، تخیل، سوال کرنے کی صلاحیت اور تنقیدی سوچ کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ بھی ہماری اجتماعی غلطی ہے کہ ہم بچے کو کتاب پڑھنے کا حکم دیتے ہیں مگر خود موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ بچہ نصیحت سے کم اور مثال سے زیادہ سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں والدین کے ہاتھ میں ہر وقت موبائل ہوگا تو بچے سے کتاب سے محبت کی توقع کرنا محض خوش فہمی ہے۔کتاب انسان کو صرف امتحان کے لیے تیار نہیں کرتی، اسے زندگی کے لیے تیار کرتی ہے۔ کتاب انسان کو تاریخ سے سبق، ادب سے احساس، سائنس سے تجسس، سوانح سے حوصلہ اور فلسفے سے سوال کرنا سکھاتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گھروں میں دوبارہ مطالعے کا ماحول پیدا کیا جائے۔ روزانہ صرف بیس یا تیس منٹ کا خاندانی مطالعہ بھی ایک بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتا ہے۔ اسکولوں میں لائبریری پیریڈ کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے، بچوں کو کتابیں منتخب کرنے کی آزادی دی جائے اور کتاب پڑھنے کو صرف امتحانی سرگرمی کے بجائے شخصیت سازی کا ذریعہ بنایا جائے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جس نسل کی سوچ کتاب سے بنتی ہے وہ معاشرے کو سوال دیتی ہے، اور جس نسل کی توجہ صرف اسکرین سے بنتی ہے وہ اکثر دوسروں کے بنائے ہوئے رجحانات کے پیچھے چلتی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف اسکرین کے صارف بنانا چاہتے ہیں یا کتاب کے ذریعے سوچنے والا انسان۔ کیونکہ کتاب بند ہونے کا مطلب صرف ایک کتاب کا بند ہونا نہیں؛ اگر یہ عادت نسلوں میں منتقل ہو جائے تو یہ معاشرے کے فکری دروازے بند ہونے کا آغاز بھی بن سکتی ہے۔





