امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق قطر، مصر اور پاکستان سمیت دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکا اور ایران کے سامنے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، جس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر ہیں جہاں یا تو وہ اس جنگ بندی کی تجویز کا انتخاب کریں گے یا پھر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی مہم شروع کریں گے تاکہ اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے لیکن تاحال کسی بھی فریق نے اسے باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا اور دونوں جانب سے حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب اردن میں ایرانی میزائل حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن نے اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا ہے، جبکہ اندرون ملک بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں اور جنگ کے خلاف ردعمل کی وجہ سے ٹرمپ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔





