تحریر: محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
ہر سال بجٹ آتا ہے، اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، ترقی کے دعوے ہوتے ہیں اور معاشی استحکام کی نوید سنائی جاتی ہے، مگر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہر بجٹ کے بعد پہلے سے زیادہ مایوس دکھائی دیتا ہے۔ یہ طبقہ پنشنرز کا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے سرکاری اداروں کی خدمت میں گزار دیے، مگر آج بڑھاپے میں وہ مہنگائی، بیماری اور معاشی بے یقینی کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وفاقی حکومت اور تین صوبوں نے پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا، جبکہ پنجاب حکومت نے صرف 3.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ اضافہ واقعی ریلیف کہلانے کا مستحق ہے؟ جب روزمرہ استعمال کی اشیا، ادویات، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں تو چند فیصد اضافہ پنشنرز کی مشکلات میں کیا کمی لا سکتا ہے؟سب سے زیادہ متاثر وہ ریٹائرڈ ملازمین ہیں جنہوں نے گریڈ 1 سے11 تک خدمات انجام دیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پوری ملازمت محدود تنخواہوں میں گزار دی۔ کسی نے چوکیداری کی، کسی نے دفتری امور سنبھالے، کسی نے فیلڈ میں کام کیا اور کسی نے سرکاری دفاتر کا نظام چلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ریٹائرمنٹ پر ملنے والی گریجویٹی اکثر بچوں کی تعلیم، بیٹیوں کی شادی یا قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتی ہے، جس کے بعد پنشن ہی زندگی کا واحد سہارا رہ جاتی ہے۔بڑھاپا ویسے ہی آسان نہیں ہوتا۔ اس عمر میں بیماریاں انسان کا مستقل ساتھی بن جاتی ہیں اور علاج معالجہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ایک عام پنشنر کے لیے دواؤں کے اخراجات ہی اس کی ماہانہ پنشن کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔ ایسے میں گھر کا کرایہ، بجلی، گیس، پانی، راشن اور دیگر ضروریات پوری کرنا کسی امتحان سے کم نہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مالی مشکلات صرف پاکستان تک محدود نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کفایت شعاری کا آغاز ہمیشہ کمزور طبقے سے ہی کیوں ہوتا ہے؟ اگر قومی وسائل محدود ہیں تو غیر ضروری سرکاری اخراجات، شاہانہ مراعات، پروٹوکول، غیر پیداواری منصوبوں اور مالی بدانتظامی پر بھی اسی سنجیدگی سے نظرثانی ہونی چاہیے۔ جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی، عام آدمی خود کو مسلسل ناانصافی کا شکار محسوس کرتا رہے گا۔پنشن کو اکثر سرکاری خزانے پر بوجھ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پنشن کسی حکومت کا احسان نہیں بلکہ ایک سرکاری ملازم کی برسوں کی محنت اور خدمات کا تسلیم شدہ حق ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی جوانی ریاست کی خدمت میں گزاری ہو، وہ بڑھاپے میں باوقار زندگی گزارنے کا حق رکھتا ہے۔ اگر وہی شخص اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو جائے تو یہ ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے 3.5 فیصد اضافہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر مالی وسائل محدود تھے تو بھی ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا تھا جو کم از کم مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کرتا۔ پنشنرز کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ ریاست انہیں فراموش نہیں کر رہی۔یہ معاملہ صرف موجودہ پنشنرز تک محدود نہیں بلکہ لاکھوں حاضر سروس ملازمین بھی اپنے مستقبل کو اسی آئینے میں دیکھ رہے ہیں۔ اگر ایک شخص پوری ایمانداری سے ملازمت کے بعد بھی معاشی تحفظ حاصل نہ کر سکے تو اس سے اداروں پر اعتماد اور ملازمین کا حوصلہ بھی متاثر ہوتا ہے۔حکومتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ معاشی پالیسیاں صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں سے جڑی ہوتی ہیں۔ بجٹ اس وقت کامیاب سمجھا جا سکتا ہے جب اس کا سب سے زیادہ فائدہ کمزور طبقے تک پہنچے۔ پنشنرز کسی رعایت کے طلبگار نہیں، وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی پنشن مہنگائی کی رفتار کے مطابق ہو تاکہ وہ اپنی باقی زندگی عزت، خودداری اور اطمینان کے ساتھ گزار سکیں۔ریاستوں کی پہچان ان کی بلند و بالا عمارتوں یا بڑے ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں، ریٹائرڈ ملازمین اور کمزور طبقات کا کس حد تک خیال رکھتی ہیں۔ اگر بڑھاپا معاشی پریشانی، علاج کی بے بسی اور بنیادی ضروریات کے فقدان کا دوسرا نام بن جائے تو ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت پنشنرز کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے، پنشن میں ایسا اضافہ کرے جو حقیقی ریلیف دے، غیر ضروری اخراجات میں کمی لائے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔ کیونکہ ایک مطمئن پنشنر صرف ایک فرد نہیں بلکہ اس ریاست کی ذمہ داری، اس کی ساکھ اور اس کے انصاف کا آئینہ دار ہوتا ہے





