جون 26, 2026

بیٹیوں پر پابندیاں نہیں، بیٹوں کی تربیت وقت کی اہم ضرورت

از قلم: فیصل جنجوعہ

ہر بار جب کسی معصوم بچی یا خاتون کے ساتھ ہراسانی، زیادتی یا تشدد کا کوئی افسوسناک واقعہ پیش آتا ہے تو معاشرے میں سب سے پہلے یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ "اپنی بیٹیوں کو اکیلا باہر نہ بھیجیں، انہیں احتیاط سکھائیں، ان پر نظر رکھیں۔” سوال یہ ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ کیا مسئلے کا اصل حل صرف بیٹیوں کی آزادی محدود کرنا ہے، یا پھر ہمیں اپنی سوچ کا رخ بدلنا ہوگا؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک مہذب معاشرہ صرف بیٹیوں پر پابندیاں لگا کر محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ جب تک بیٹوں کی درست تربیت نہیں ہوگی، خواتین اور بچیاں خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے بیٹوں کو یہ سکھائیں کہ ہر عورت عزت اور احترام کی مستحق ہے، نہ کہ انہیں دوسروں کی آزادی پر قدغن لگانے کا جواز فراہم کیا جائے۔
بدقسمتی سے جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی بڑی تعداد غیر اخلاقی اور فحش مواد تک آسان رسائی رکھتی ہے۔ اگر والدین اس پہلو پر توجہ نہ دیں، بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے بے خبر رہیں اور اخلاقی تربیت کو نظر انداز کریں تو اس کے سنگین نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ صرف تعلیمی کامیابی کافی نہیں، بلکہ کردار سازی، اخلاق، برداشت، خواتین کے احترام اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ معاشرے کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان غلط راستے پر چل پڑے تو بعض خاندان اس کی اصلاح کرنے کے بجائے اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ جرائم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اگر کسی بچے میں تشدد، ہراسانی یا جنسی جارحیت جیسے خطرناک رجحانات ظاہر ہوں تو انہیں چھپانے کے بجائے فوری اصلاح، نفسیاتی علاج، مناسب رہنمائی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ اصل محبت یہی ہے کہ بچے کو بروقت غلط راستے سے واپس لایا جائے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جرائم کی وجوہات پیچیدہ ہوتی ہیں۔ ان کا تعلق صرف ایک عامل سے نہیں بلکہ خاندانی ماحول، سماجی رویوں، قانون کے نفاذ، تعلیم، ذہنی صحت اور انفرادی ذمہ داری سمیت کئی عوامل سے ہوتا ہے۔ اسی لیے مسئلے کا حل بھی جامع ہونا چاہیے۔ آج ہمیں یہ سوال خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسا معاشرہ دینا چاہتے ہیں؟ ایسا معاشرہ جہاں بیٹیاں ہر قدم پر خوفزدہ رہیں، یا ایسا جہاں بیٹے اپنی نگاہ، زبان، رویے اور کردار سے دوسروں کے لیے تحفظ کی علامت بنیں؟
اگر واقعی ہم ایک محفوظ، باوقار اور مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں بیٹیوں کی آزادی محدود کرنے کے بجائے بیٹوں کی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ کیونکہ ایک باشعور، باکردار اور ذمہ دار بیٹا ہی ایک محفوظ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔