جون 23, 2026

پڑھے لکھے نوجوان اور بدتہذیب ٹک ٹاکرز

از قلم: فیصل جنجوعہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان تعلیم یافتہ، باکردار اور بااخلاق ہوں تو قوم ترقی کرتی ہے، لیکن اگر تعلیم صرف ڈگری تک محدود رہ جائے اور کردار و تہذیب پسِ پشت چلے جائیں تو معاشرہ زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں یہی المیہ تیزی سے جنم لے رہا ہے۔ سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک، نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا ایک وسیع پلیٹ فارم ضرور فراہم کیا ہے، مگر اس آزادی کا غلط استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اب صرف کم تعلیم یافتہ افراد ہی نہیں بلکہ اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والے بعض نوجوان بھی شہرت، ویوز اور فالوورز کی دوڑ میں تہذیب، شائستگی اور سماجی اقدار کو قربان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سوال نہایت اہم ہے کہ اگر ایک نوجوان انجینئر، ڈاکٹر، استاد یا گریجویٹ ہونے کے باوجود اپنی گفتگو، لباس، رویے یا ویڈیوز میں اخلاقی حدود کا خیال نہیں رکھتا تو اس کی تعلیم کا اصل مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ تعلیم کا مطلب صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ شعور، برداشت، اخلاق اور ذمہ داری پیدا کرنا بھی ہے۔ افسوسناک رجحان یہ بھی ہے کہ سستی شہرت کی خاطر غیر مہذب زبان، دوسروں کی تضحیک، بے ہودہ حرکات اور غیر سنجیدہ مواد کو کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔ جب معاشرہ ایسے مواد کو پسند کرتا ہے تو نوجوان بھی اسی راستے کو کامیابی کی ضمانت سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ وقتی شہرت مستقبل کی عزت کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اس تنقید کا مقصد ٹک ٹاک یا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی مخالفت نہیں، بلکہ اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی نشاندہی کرنا ہے۔ یہی پلیٹ فارم علم، ہنر، کاروبار، تعلیم، ادب اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ فرق صرف نیت، سوچ اور کردار کا ہے۔ والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو صرف نصابی تعلیم ہی نہ دیں بلکہ ڈیجیٹل اخلاقیات، سماجی ذمہ داری اور آن لائن رویوں کی بھی تربیت کریں۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی ہر پوسٹ، ہر ویڈیو اور ہر لفظ ان کی شخصیت اور خاندان کی نمائندگی کرتا ہے۔ ڈگری انسان کو روزگار دلا سکتی ہے، مگر عزت صرف کردار اور تہذیب دلاتے ہیں۔ اگر ہماری تعلیم اخلاق، احترام اور ذمہ داری پیدا نہیں کر رہی تو ہمیں اپنی تعلیمی اور سماجی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک باشعور نوجوان وہ نہیں جو صرف مشہور ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے علم، کردار اور تہذیب سے معاشرے کے لیے مثبت مثال بنے۔