ڈنگہ (پریس ریلیز) موضع امرہ خورد میں ایک بڑی فکری و مذہبی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز نوجوان عالمِ دین اور ایم فل سکالر، امیرِ سخن مولانا صاحبزادہ قاضی امداد اللہ نے کہا ہے کہ یہ شومیٔ قسمت ہے کہ آج تاریخِ اسلام کے ایک انتہائی روشن اور متفقہ باب ‘غدیر خم’ کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس عظیم واقعے کو علم حدیث، قرآن اور سنت کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے تاکہ معاشرے میں حبِ علیؓ پیدا ہو سکے۔ علمِ حدیث کے اس روشن مینار کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس کی حقیقی روح اور علم سے لاعلم رہ جاتی ہے۔
صاحبزادہ قاضی امداد اللہ نے اپنے تفصیلی خطاب میں واضح کیا کہ غدیر خم کی حدیث سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مقام، مرتبے اور فضیلت کو مزید ممتاز کرتی ہے، جہاں رسولِ اکرم ﷺ نے "من کنت مولاہ فعلی مولاہ” (جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں) فرما کر حضرت علیؓ سے اپنی شدید محبت اور ان کے اعلیٰ رتبے کا اظہار فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ غدیر خم کا واقعہ ہو یا امیر المؤمنین حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت، دونوں عظیم الشان واقعات کے متعلق ذخیرۂ احادیث میں واضح اور مستند علم موجود ہے۔ نوجوانانِ امت کو چاہیے کہ وہ کسی کے بہکاوے میں آنے کے بجائے خود مطالعہ کریں یا کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کر کے اس حدیث پاک کو پڑھ کریں۔
انہوں نے خطباء اور علمائے کرام سے اپیل کی کہ ذی الحج کے بابرکت مہینے میں قربانی اور حج کے فضائل سے فراغت کے بعد، منبر و محراب سے واقعہ غدیر خم اور شہادتِ عثمان غنیؓ دونوں کو یکساں طور پر بیان کیا جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ محض فروعی و مسلکی اختلافات کی وجہ سے ہم دینِ اسلام کی اصل تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں، جس سے نئی نسل بنیادی اسلامی معلومات سے بھی محروم ہو رہی ہے۔ ہمیں دینِ اسلام کے ہر گوشے کو وسعتِ قلبی سے سمجھنا چاہیے تاکہ معاشرے میں امن، محبت اور اتحاد کا دامن مضبوطی سے تھاما جا سکے۔ اس فکری مجلس میں علاقہ مکینوں اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔





