جون 7, 2026

جامعہ کراچی دانستہ غفلت کا شکار، تاریخی تعلیمی ادارے کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی اپیل

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ سندھ بھر کی یونیورسٹیوں میں صف اوّل اور بین الاقوامی سطح پر معترف کراچی یونیورسٹی کو از خود جان بوجھ کر زبوں حالت کا شکار بنایا جارھا ھے اس عمل میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن اور اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد سے وزیراعلیٰ سندھ کی عدم دلچسپی نظر آرہی ہیں۔ تصاویر میں موجودہ کراچی یونیورسٹی کے مسکن گیٹ سے کراچی یونیورسٹی کے احاطہ میں واقع نجی یونیورسٹی آئی بی اے نے نہ صرف روڈ نئے بنائے بلکہ بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے گرین بلیٹ، اسٹریٹ لائٹس اور سیکیورٹی کمیرے بھی نصب کیے جس سے کراچی یونیورسٹی کے کچھ شعبہ جات بھی مستفید ہورہے ہیں جبکہ اس چھوٹے سے ٹکڑے کے علاوہ کراچی یونیورسٹی کے دیگر شعبہ جات اور ڈپارٹمنٹس کو دیکھیں تو وہ موئن جو ڈرو اور کاہو جو ڈرو کی صورت اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ درست ھے کہ کراچی یونیورسٹی کا تعلیمی معیار دیگر پاکستانی یونیورسٹیوں سے بالاتر ھے اور بلخصوص سندھ بھر میں واحد کراچی یونیورسٹی بین الاقوامی گریڈنگ میں ابتک اپنا مقام قائم رکھے ہوئے ھے۔ بیشمار اسکالرز، ڈاکٹرز، محققین، ماہرین، اور عمائدین شہر کا کہنا ھے کہ وزراتِ تعلیم وفاق و صوبائی کیساتھ ساتھ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن اور وزیراعلیٰ سندھ بلخصوص صدر مملکت اور وزیراعظم کو کراچی یونیورسٹی کے متعلق انتہائی سنجیدگی سے سوچنا اور عمل کرنا چاہئے تاکہ مزید غفلت اور عدم توجہگی کے سبب کراچی یونیورسٹی کو تباہ و برباد سے بچایا جا سکے اور ذہین، قابل، ہونہار طالبعلم علم کے زیور سے محروم نہ ہوسکیں۔