ڈنگہ (سٹی رپورٹر) مرکزی راہنما پاکستان پیپلزپارٹی‘ سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے ڈنگہ میں ”میٹ دی پریس“ میں میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کی مکمل حمایت کر رہے ہیں لیکن ہم اقتدار میں شریک نہیں ہیں۔ اس لئے حکومت پر ہونے والی تنقید ہم نے بھی برداشت کرنی ہے۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمت نے مہنگائی کے طوفان کو حد سے بڑھا دیا ہے۔ ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے اور اپنے دوست ممالک سے رابطہ کر کے ان سے کسی نوع کی مدد لے تا کہ تیل کی قیمت کم کی جائے کیونکہ اب مزدور اور غریب ہی نہیں بلکہ مڈل کلاس کے لوگ بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم لوگ بار بار کہتے ہیں کہ ہمیں فوج کا بجٹ کم کرنا چاہئے لیکن آپ جانیں کہ بھارت کے فوجی بجٹ کے مقابلے میں ہماری افواج کا بجٹ 1/3 سے بھی کم ہے۔ اس کے باوجود ہم نے بھارت کے حملہ کے وقت خود سے کئی بنا طاقتور افواج کا مقابلہ جس دلیری سے کیا وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے۔

ہم نے بڑھکیں نہیں ماریں بلکہ خاموشی سے تیاری کی اور اس کا مظاہرہ بھارتی حملوں کے جواب میں دیا ہے اور اگر وہ دوبارہ کوشش کرے گا تو اس سے زیادہ بڑا جواب دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں بجٹ کا سب سے زیادہ خرچ تعلیم اور صحت پر ہوتا ہے۔ حکومت شہروں کے تعلیمی اداروں اور ہیلتھ کے مراکز کو آؤٹ آف سورس نہیں کر رہی بلکہ وہ BHU جن میں نہ دوائی ہو‘ نہ ڈاکٹر ہو تو وہ عوام کی کیا خدمت کرے گا۔ کیا بہتر نہیں کہ وہاں کا ہسپتال کسی ڈاکٹر کے حوالے کر دیا جائے تا کہ وہ اس کو بہتر انداز میں خود چلا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سکولوں میں توانائی کے بچت کے لئے 3 روزہ چھٹی کی گئی لیکن انہوں نے پروٹوکول کو پچاس فیصد کم بھی کر دیا ہے۔ لیکن کسی وزیر اعلیٰ‘ کسی وزیر اعظم اور کسی وزیر داخلہ کی سکیورٹی کم نہیں کی جا سکتی کیونکہ اگر کوئی وزیر اعلیج مر جائے گا یا وزیر اعظم مر جائے گا تو اس ملک کا کیا ہو گا۔ اس لئے ان کی سکیورٹی ضروری ہے اور ان کو جہاز بھی اس لئے ملتا ہے کہ اگر وہ بلوچستان جائے گا تو 3 گھنٹے بعد وہاں کے معاملات نمٹا کر واپس آئے گا اور باقی امور انجام دے گا۔ اس کو کار میں پشاور‘ کوئٹہ یا کراچی جانی پڑے تو 3/3 دن وہ راستوں میں رہے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کم کرنے کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ آئی ایم ایف نے گزشتہ برس تمام محکموں میں کٹوتی کی مگر اس نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بڑھایا جائے بے شک اس میں مزید سکروٹنی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اہل افراد کو اس کی مدد مل سکے۔





