اکتوبر 28, 2026

یومِ صحافت: سچ کی قیمت اور خاموشی کا جبر

تحریر انصر فاروق مغل

3 مئی کو منایا جانے والا یومِ صحافت ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ ایک معاشرے میں سچ بولنے اور سچ لکھنے کی کتنی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ دن محض رسمی بیانات اور صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ یہ اس سوال کا تقاضا کرتا ہے کہ کیا واقعی ہمارے ہاں صحافت آزاد ہے؟
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی بتدریج سکڑتی جا رہی ہے۔ پیکا جیسے قوانین کے ذریعے ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا دونوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ طاقتور حلقے تنقید کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ سے لے کر اعلیٰ ایوانوں تک، احتساب سے بچنے کا رجحان ایک خطرناک روایت اختیار کر چکا ہے۔
یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سچ لکھنے والے صحافیوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں ہراساں کیا جاتا ہے، جھوٹے مقدمات میں الجھایا جاتا ہے، دھمکیاں دی جاتی ہیں اور بعض اوقات ان کی ذاتی زندگی تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے کئی واقعات میں یہ دباؤ تشدد اور جان لیوا حملوں تک جا پہنچتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف صحافت بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
ایک آزاد صحافت ہی کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر صحافی خوف کے سائے میں کام کریں گے تو نہ شفافیت باقی رہے گی، نہ انصاف کا عمل مؤثر ہوگا اور نہ ہی عوام کو سچائی تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔ ایسے میں جمہوریت محض ایک نام رہ جاتی ہے، جس کی روح ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا کلچر فروغ دیں۔ تنقید کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھا جائے۔ کیونکہ جو معاشرے سچ کا گلا گھونٹتے ہیں، وہ مسائل سے فرار تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر ان کا حل کبھی نہیں ڈھونڈ پاتے۔
آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ قلم کو پابند نہیں ہونے دیں گے، سچ کو دبنے نہیں دیں گے، اور صحافت کو اس کے اصل مقام—عوام کی آواز—سے محروم نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ ایک زندہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں سوال پوچھنے کی آزادی ہو اور جواب دینے کی ذمہ داری بھی۔